.

اسرائیل امریکا کی جاسوسی کرنے والا واحد اتحادی

صنعتی و تکنیکی شعبے اسرائیلی جاسوسوں کا اہم ہدف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے اپنے دیگر اتحادیوں اور مہربانوں کے مقابلے میں امریکی جاسوسی کی سطح تشویش ناک حد تک بڑھا دی ہے۔ یہ انکشاف نیوز ویک کی ایک تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جاسوسں کے اصل اہداف امریکا کے صنعتی اور تکنیکی رازوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جاسوسی کا ایک دلچسپی کا معاملہ یہ بھی ہے کہ امیگریشن ویزوں کے اجراء سے متعلق نئی قانون سازی کیا ہو رہی ہے اور اس کے اثرات اسرائیلی شہریوں پر کیا ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کانگریس کیلیے ہونے والی ان امور سے متعلق بریفنگز کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ '' ماہ جنوری میں اس تناظر میں ہونے والی بریفنگز بڑی فکر انگیز اور خوف زدہ کرنے والی رہیں۔

ان ذرائع کے مطابق امریکا کے ساتھ قربت رکھنے والا کوئی دوسرا ملک ایسا نہیں جو جاسوسی کے حوالے سے امریکی حدود کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہو، 2013 کے اواخر میں ایک حساس نوعیت کی بریفنگ شرکت کرنے والے ایک ذمہ دار کے مطابق یہ بات ملک کی داخلی سلامتی سے متعلق محکمے، ایف بی آئی اور کاونٹر انٹیلی جنس سے متعلق مشترکہ اداروں کے حوالے سے بتائی گئی تھی۔

کانگریس کے ایک سابق کارکن کا کہنا تھا ''ان ادروں نے اس حوالے سے کوئی متعین معلومات نہ دیں لیکن یہ ضرور کہا اسرائیل کے صنعتوں سے متعلق جاسوس بظاہر تجارتی ضروریات کے ساتھ آتے ہیں تاکہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کا جائزہ لیں۔ ان ذرائع کے مطابق یہ اسرائیلی جاسوس براہ راست اپنی حکومت کے توسط سے آتے ہیں۔

اس سابق اہلکار کا کہنا تھا ''میں نہیں سمجھتا کہ بریفنگ میں موجود کسی شخص کیلیے یہ اطلاعات حیران کن یا نئی تھیں، لیکن یہ چیز تشویش ناک بہرحال ہے کہ جب آپ کا کوئی اتحادی آپ کی جاسوسی نہیں کرتا تو اسرائیل ایسا کیوں کرتا ہے، یہ ایک مکمل طور پر ہلا دینے والی بات ہے۔''