.

امریکا سے شامی حزب اختلاف کی فورسز کو اسلحہ دینے کا مطالبہ

اسدی فوج کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے مؤثر ہتھیاروں کی ضرورت ہے:احمد الجربا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے سربراہ احمد الجربا نے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے امریکا سے ضروری اسلحہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

احمد الجربا بدھ کو اپنے پہلے دورۂ امریکا کے آغاز میں واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک سے مخاطب تھے۔انھوں نے کہا کہ ''حزب اختلاف کی فورسز کو شامی فوج کے زمینی اور فضائی حملوں کا جواب دینے کے لیے مؤثر ہتھیاروں کی ضرورت ہے تاکہ ہم برسرزمین طاقت کے توازن کو تبدیل کرسکیں''۔

انھوں نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ بشارالاسد کو شامیوں کی لاشوں پر دوبارہ صدر بننے سے روکے۔انھوں نے شام میں آیندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کو ڈھونگ قراردے کر ان کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ ان میں کامیابی کے بعد تو بشارالاسد کو آیندہ برسوں میں لوگوں کو مارنے کا لائسنس حاصل ہوجائے گا۔

امریکی صدر براک اوباما آیندہ دنوں میں احمد جربا سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ابھی اس ملاقات کی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔البتہ توقع ہے کہ وہ ویسٹ کوسٹ کے بدھ کو شروع ہونے والے تین روزہ دورے کے بعد ان سے ملیں گے۔

احمد جربا ایسے وقت میں واشنگٹن کا دورہ کررہے ہیں جب اوباما انتظامیہ نے اپنی حمایت شامی حزب اختلاف کی قومی کونسل کے پلڑے میں ڈال دی ہے اور امریکی محکمہ خارجہ نے گذشتہ سوموار کو واشنگٹن اور نیویارک میں حزب اختلاف کے دفاتر کو باضابطہ سفارتی درجہ دینے کا اعلان کیا تھا اور اس کے لیے غیر مہلک امداد کی مد میں رقم بڑھا کر دو کروڑ ستر لاکھ ڈالرز کردی تھی۔

واضح رہے کہ اوباما انتظامیہ نے حزب اختلاف کی کونسل کو دسمبر 2012ء میں شامی عوام کی حقیقی نمائندہ قرار دے دیا تھا لیکن اس کے دفاتر کو غیررسمی رابطوں کی جگہ قراردیا تھا۔اب امریکی انتظامیہ آیندہ دنوں میں بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مزید پابندیاں عاید کرنے پر بھی غور کررہی ہے کیونکہ اس سے پہلے امریکا کی جانب سے شام پر عاید کردہ پابندیاں بشارالاسد کی حکومت اور فوج کو عوام کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں اور مظالم سے باز رکھنے میں ناکام رہی ہیں۔