.

جدہ اسپتال میں مرس کے مریضوں کی منتقلی مؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ کے محکمہ صحت نے شاہ عبداللہ میڈیکل کمپلیکس میں مڈل ایسٹ ریسپائیریٹری سینڈروم (مرس) وائرس کا شکار مریضوں کو منتقل کرنے اور انھیں وہاں الگ تھلگ رکھنے کا کام موخر کردیا ہے۔

جدہ کے محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر سامی بداؤد نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ کمپلیکس میں ضروری انتظامات کی تکمیل تک مرس کے مریضوں کو منتقل نہیں کیا جائے گا اور فی الوقت کورنا وائرس کا شکار مریضوں کو جدہ میں شاہ فہد جنرل اسپتال ہی میں الگ تھلگ رکھا جائے گا جہاں اس مقصد کے لیے چھتیس کمرے مختص کردیے گئے ہیں۔

انھوں نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے کہ جدہ میں تمام مریضوں کو شاہ فہد اسپتال میں اکٹھے رکھا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب کے قائم مقام وزیرصحت عادل فقیہ نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ مرس کے مریضوں کو بہترعلاج کے لیے جدہ کے نواح میں واقع شاہ عبداللہ میڈیکل کمپلیکس میں منتقل کردیا جائے گا۔

درایں اثناء سعودی گزٹ نے روزنامہ مکہ میں منگل کو مرس وائرس سے لاحق ہونے والے مرض ،اس کے اسباب اور اثرات سے متعلق شائع ہونے والی ایک رپورٹ کو غلط قراردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس مرض کے علاج کے لیے ویکسین تیار کر لی گئی ہے حالانکہ اب تک اس کی کوئی ویکسین یا علاج دریافت نہیں ہوا ہے اور اسپتالوں میں مرضوں کو درد سے افاقہ دینے والی دوائیں ہی دی جارہی ہیں۔

روزنامہ مکہ کی اشاعت میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب سے بیرون ملک جانے والوں پر سفری پابندی عاید کردی گئی ہے۔اس کے برعکس ابھی تک سعودی مملکت سے بیرون ملک جانے والوں کے لیے کوئی سفری ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے اور نہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایسی کوئی سفارش کی ہے۔

اس اخبار نے لکھا تھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے یا اس کا دودھ پینے سے لوگ مرس وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔اس لیے ان سے پرہیز کیا جائے لیکن ڈاکٹروں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اونٹ کا گوشت خوب پکا کر کھاسکتے ہیں اور دودھ کو بھی اُبال کر پی سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اخبار نے مرس کا شکار مریضوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر یہ بھی لکھ دیا تھا کہ ''ہمیں وبائی مرض کا سامنا ہے''،مگر عالمی ادارہ صحت نے سعودی عرب سے متعلق ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی ہے اور نہ اس نے موجودہ صورت کو وبائی قراردیا ہے۔اخبار نے کورنا وائرس کو غلط طور پر سارس قراردے دیا تھا۔

تاہم سعودی عرب اور عالمی ادارہ صحت کے حکام نے 65 سال سے زائدالعمر افراد ،بارہ سال سے کم عمر بچوں ،حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں کا شکار افراد سے کہا ہے کہ وہ اس سال حج کے لیے نہ آئیں مگر انھوں نے مرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر اور کوئی اضافی پابندی عاید نہیں کی ہے۔واضح رہے کہ ہرسال رمضان المبارک کے دوران دنیا بھر سے عازمین عمرہ کی بڑی تعداد سعودی عرب آتی ہے اور اس کے بعد حج کا سیزن شروع ہوجائے گا جس کے دوران لاکھوں کی تعداد میں عازمین کی آمد متوقع ہے۔