.

ایرانی صدر نے ''وٹس آپ'' پر پابندی مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے انٹرنیٹ پر مقبول عام پیغام رسانی کے اطلاق ''وٹس آپ'' پر پابندی کی تجویز مسترد کردی ہے۔

ایرانی حکام سماجی روابط کی ویب سائٹس ٹویٹر اور فیس بُک پر گاہے گاہے مختلف نوعیت کی پابندیاں عاید کرتے رہے ہیں اور ان جانب سے وٹس آپ پر بھی پابندی کی تجویز سامنے آئی تھی لیکن اس معاملے میں روحانی انتظامیہ اور تیرہ ارکان پر مشتمل انٹرنیٹ سنسرشپ کمیٹی کے درمیان تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔

ایرانی روزنامے شرق میں بدھ کو شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق اب صدر روحانی نے وٹس آپ پر پابندی نہ لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔روحانی حکومت نے فیس بُک کی جانب سے مقبول میسجنگ سروس کو فروری میں انیس ارب ڈالرز میں خرید کیے جانے کے بعد یہ حکم جاری کیا تھا۔

شرق نے ٹیلی مواصلات کے وزیر محمد واعظی کے حوالے سے لکھا ہے کہ وٹس آپ پر پابندی کے ایشو کو اٹھایا گیا ہے اور صدر نے اس سائٹ پر پابندی کو روکنے کا حکم دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ جب تک ان سائٹس کا کوئی متبادل بندوبست نہیں ہوجاتا،اس وقت تک حکومت ان کو فلٹر کرنے کی مخالفت کرے گی۔

ٹیلی مواصلات کی وزارت کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ ویب مواد کے مجرمانہ ہونے کا تعین کرنے والی کمیٹی نے اس پر پابندی کی منظوری دی تھی لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

اس کمیٹی کے سیکریٹری عبدالصمد خرم آبادی نے اسی ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ''وٹس آپ پر پابندی کا ایک جواز یہ تھا کہ اس کو فیس بُک کے شریک بانی اور مالک مارک زکربرگ نے خرید کر لیا ہے اور وہ ایک صہیونی یہودی ہے۔
ایرانی کمیٹی نے انسٹاگرام اور وائبر سمیت دوسری اسمارٹ فون اپلیکیشنز پر پابندی کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔انسٹا گرام بھی فیس بُک کی ملکیتی ہے۔تاہم ایرانی حکام نے سوشل میڈیا پر پابندی ختم کرنے کی حمایت کی ہے لیکن صدر روحانی کو ابھی سخت گیروں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔وہ گذشتہ سال منعقدہ صدارتی انتخابات میں سماجی ،ثقافتی اور میڈیا ایشوز کے حوالے سے زیادہ رواداری کا مظاہرہ کرنے پر ہی منتخب ہوئے تھے اور عوام نے قدامت پسندوں کے مقابلے میں انھیں پذیرائی بخشی تھی۔