.

سعودی عرب: مرس وائرس سے مزید چار اموات،18 متاثر

سڑک حادثے میں زخمی 10 سالہ بچہ اسپتال پہنچ کر مرس کا شکار ہوگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں مڈل ایسٹ ریسپائیریٹری سینڈروم (مرس) وائرس کا شکار چار اور مریض جان کی بازی ہار گئے ہیں اور اس سے متاثرہ اٹھارہ نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کے محکمہ صحت کے حکام نے جمعرات کو ان چار نئی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ان میں سے دو خواتین کا انتقال دارالحکومت الریاض میں منگل اور بدھ کو ہوا ہے۔ایک متوفیہ خاتون کی عمر پینسٹھ سال تھی اور وہ مختلف بیماریوں کا شکار تھی۔دوسری کی عمر پینتالیس سال بتائی گئی ہے۔ساحلی شہر جدہ میں مرس سے متاثرہ ایک ستر سالہ خاتون اور ساٹھ سالہ مرد کا انتقال ہوا ہے۔

مرس وائرس سے متاثرہ جن اٹھارہ نئے کیسوں کی اطلاع دی گئی ہے،ان میں ایک دس سالہ بچہ بھی شامل ہے۔وہ 29 اپریل کو ایک سڑک حادثے میں زخمی ہوگیا تھا اور اس کو ایک سرکاری اسپتال میں لایا گیا تھا لیکن 2 مئی کو جب اس کو اسپتال سے فارغ کیا گیا تو اس میں مرس وائرس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئیں اور اس کو پھر انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں منتقل کردیا گیا ہے۔

مرس وائرس 2012ء میں سعودی عرب میں پہلی مرتبہ پھیلا تھا اور پھر یہ مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں پہنچا تھا۔ سعودی عرب میں اب تک مرس وائرس سے ایک سو اکیس اموات ہوچکی ہیں اور چار سوانچاس افراد اس مہلک وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جو مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

درایں اثناء عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے طبی ماہرین نے جدہ کے پانچ روزہ جائزہ مشن کے بعد کہا ہے کہ مرس وائرس سے بچاؤ اور کنٹرول کے لیے ادارے کی سفارشات پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے جدہ میں اس مہلک وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی عرب کے نگران وزیرصحت عادل فقیہ نے بدھ کو اس مہلک وائرس سے لاحق ہونے والے مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک آگہی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے شہریوں پر زوردیا کہ وہ حفظان صحت کے اصولوں کی سختی سے پاسداری کریں اور اونٹ کا کچا گوشت کھانے اور تازہ دودھ پینے سے بھی گریز کریں۔البتہ وہ اونٹ کے گوشت کو خوب پکا کر اور دودھ کو بھی اُبال کر استعمال کر سکتے ہیں۔