.

لیبیا: بن غازی میں خفیہ ادارے کا سربراہ قتل

ایک میڈیکل سنٹر کے نزدیک نامعلوم حملہ آوروں کی کرنل ابراہیم کی کار پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں خفیہ ادارے جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ کرنل ابراہیم السنوسی عقیلہ کو قتل کردیا گیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل نے لیبیا کے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کرنل ابراہیم عقیلہ کو جمعرات کو بن غازی میں ایک میڈیکل سنٹر کے نزدیک گولی مار کر قتل کیا گیا ہے۔وہ اپنی کار میں سوار تھے کہ اس دوران نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کردی۔انھیں دو گولیاں لگی ہیں اور ایک گولی ان کی گردن میں پیوست ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ بن غازی میں 2011ء کے اوائل میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے خلاف سب سے پہلے عوامی احتجاجی تحریک برپا ہوئی تھی لیکن اس شہر میں اس وقت سے بد امنی کا دور دورہ اور مسلح جنگجو سرعام اسلحے سمیت دندناتے پھرتے ہیں اور سکیورٹی اہلکاروں ،غیرملکیوں ،سرکاری حکام اور ججوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

گذشتہ دسمبر میں ملک کے اس دوسرے شہر میں تعینات ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کو بھی اسی انداز میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔گذشتہ ہفتے جہادی گروپ انصارالشریعہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے بن غازی میں پولیس ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بول دیا تھا جس کے بعد مسلح جھڑپ میں نو فوجی اور پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔

بن غازی کے علاوہ ایک اور مشرقی شہر درنہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں خاص طور پر لیبیا کی مرکزی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور سخت گیر اسلامی جنگجوؤں نے اپنی اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔ وہ اسلحے کی نوک پر اپنے مطالبات منواتے ہیں اور سرکاری اداروں کو بھی اںھوں نے اپنے زیرنگیں رکھا ہوا ہے۔وہاں طوائف الملوکی کے پیش نظر مغربی سفارت کار اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ مشرقی شہر درنہ خاص طور پر غیرملکی اور مقامی اسلامی جنگجوؤں کی آماج گاہ بنتا جارہا ہے جو وہاں سے شام یا مصر کا رُخ کررہے ہیں۔