.

صدارتی انتخابات کی عالمی مانیٹرنگ پر مصر کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی عبوری حکومت نے صدارتی انتخابات کو شفاف اور عالمی جمہوری معیار کے مطابق بنانے کے لیے مقامی وعلاقائی مانیٹرنگ گروپوں اور مبصرین کو نگرانی کی مکمل اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قاہرہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی عمل کی شفافیت کے لیے زیادہ سے زیادہ مانیٹرنگ این جی اوز کو نگرانی کا اختیار سونپنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ اس ضمن میں آئینی دائرے کے اندر رہ کر کام کرنے والی کسی بھی تنظٰیم کی خدمات کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پیش آئند صدارتی انتخابات کے دوران مصر کے مجموعی طور پر 100 اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے چھ مانیٹرنگ گروپوں کو نگرانی کی اجازت فراہم کی جا چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ ملک کو حقیقی جمہوری بنیادوں پر چلانے کے لیے عوام اور سیاسی جماعتوں کو آزادانہ حق رائے دہی کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ اس ضمن میں انتخابی عمل کی مانیٹرنگ کو بھی شفاف بنایا جائے گا۔

مبصرین کی جانب سے مصری حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے، تاہم کالعدم اسلام پسند سیاسی و مذہبی جماعت اخوان المسلمون اور اس کی حمایتی گروپوں کی طرف سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ چونکہ اخوان المسلمون اور اس کے تمام ذیلی اداروں اور تنظیموں پر پابندی عائد ہے، اس لیے مانیٹرنگ کے عمل میں بھی ان کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ ملک کے بعض سیاسی حلقے حکومت کے اس طرز عمل سے سخت نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اخوان کی حامی تنظیموں کو کم ازکم الیکشن کے دوران مانیٹرنگ کا کردار ضرور سونپا جانا چاہیے۔

انتخابات کی نگرانی کے لیے"مہارت" کی شرط سے بھی بہت سے گروپوں کو مانیٹرنگ سے باہر کر دے گی۔ مانیٹرنگ کی اجازت صرف اسی گروپ کو دی جائے گی جو ماضی میں بھی اس طرح کے فرائض انجام دے چکا ہو اور اس کے کارکنوں کو بڑے اداروں میں کام کرنے یا مانیٹرنگ کا تجربہ ہو۔

گذشتہ مارچ میں مصری آئین پر کرائے گئے ریفرنڈم میں بھی الیکشن کمیشن نے مانیٹرنگ گروپوں کو آزادانہ کام کی اجازت دے رکھی تھی۔ مانیٹرنگ گروپوں کی نشاندہی پر کئی پولنگ مراکز کا عملہ تبدیل کیا گیا تھا۔