.

طالبات کا اغوا: انجلینا جولی، ملالہ اور مشعل اوباما ہم آواز

''ہماری بچیوں کو واپس لایا جائے'' مشعل اوباما کا ٹویٹ پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہالی ووڈ کی عالمی شہرت یافتہ ادا کارہ انجلینا جولی کے بعد امریکی خاتون اول مشعل اوباما بھی نائیجیریا کی دو سو سے زائد یرغمال طالبات کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنے والوں میں شامل ہو گئی ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردوں کی گولی سے پہلے اپنے والد کی مدد سے لکھی گئی تحریروں کی بنیاد پر شہرت پانے والی ملالہ یوسف زئی نے بھی اغواکار تنظیم بوکو حرام کو اسلام اور قران سے نابلد گروہ قراردیتے ہوئے نائیجیرین بچیوں کے اغوا کی مذمت کی ہے۔

امریکی خاتون اول نے یرغمال طالبات کے حوالے سے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ '' ہماری دعائیں لاپتا طالبات اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری بچیوں کو واپس لایا جائے۔'' نائیجیرین طالبات کی اغوا کاروں سے رہائی کے لیے دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر مہم جاری ہے تاکہ عالمی سطح پر اس بارے میں رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔

اس مہم کو اقوام متحدہ نے بھی تقویت دی ہے۔ اس عالمی ادارے نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے '' ہماری بچیوں کو واپس لایا جائے'' کا پیغام ٹویٹ کیا۔ یہ پیغام اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے تھا۔ انھوں نے نائیجیریا میں دو سو سے زائد بچیوں کے اغوا پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔

اسی ہفتے انجلینا جولی نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ممکن ہے وہ اس معاملے کو اپنی کسی نئی فلم کا موضوع بھی بنالیں۔ تاہم اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے اس واقعے کو انسانی بنیادوں پر ایک ناقابل تصور بے رحمی قرار دیا۔

اس بارے میں عالمی شہرت پانے والی نوعمر ملالہ یوسف زئی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نائیجیریا میں اغوا کی گئی طالبات اس کی بہنیں ہیں۔ ملالہ کا ان بچیوں کو اغوا کرنے والوں کے بارے میں سی این این سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا'' انتہا پسند گروپ بوکو حرام اسلام کو سمجھتا ہے نہ اس نے قرآن کا مطالعہ کیا ہے، ان کا اغوا کاری کا یہ اقدام سخت ہولناک ہے۔''

واضح رہے مختلف ممالک نے ان یرغمال بچیوں کی بازیابی میں مدد دینے کی پیش کش کی ہے۔ اس ایشو پر پوری دنیا میں شور ہے۔ ملالہ نے ان اغوا کاروں سے کہا ہے کہ انھیں اسلام کو سیکھنا اور سمجھنا چاہیے کیونکہ اسلام ایسی کارروائیوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے۔