.

اینجلینا جولی کا بوکو حرام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

ہالی وڈ اسٹار نائیجیریا میں 200 طالبات کو یرغمال بنائے جانے کے بعد بیمار پڑگئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہالی وڈ اسٹار اینجلینا جولی نے حال ہی میں نائیجیریا میں ایک جنگجو گروپوں کے ہاتھوں دوسو سے زیادہ طالبات کے اغوا کے واقعہ کو ناقابل فہم سفاکیت قراردے کر اس کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے فرانس کے نیوز چینل آئی ٹیل کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ''میں طالبات کے اغوا کے واقعہ اور یہ سن کر بیمار پڑ گئی ہوں کہ انھیں خوف زدہ کیا گیا ہے،ان سے ناروا سلوک کیا جارہا ہے اور انھیں فروخت کر دیا جاِئے گا۔یہ بات سوچ سے بھی بالاتر ہے کہ کوئی شخص اس طرح کی گھناؤنی حرکت کرسکتا ہے''۔

انھوں نے پیرس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بھی اس ایشو پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''دنیا میں اب بھی حقیقی برائی موجود ہے۔آپ ٹی وی چینلوں پر اس کی خبر ملاحظہ کرسکتے ہیں۔یہ ایک ناقابل فہم سفاکیت ہے۔ہم سب کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہاں نائیجیریا میں ایسا کیوں ہورہا ہے؟ ''

نائیجیریا کے انتہا پسند مسلح گروپ بوکو حرام نے ایک گاؤں شبوک میں واقع ایک اسکول سے ان طالبات کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا تھا۔اب بوکوحرام کے لیڈر ابوبکر شیخاؤ نے ان لڑکیوں کو مارکیٹ میں فروخت کرنے کی دھمکی دی ہے جس کے بعد ان کو لونڈیاں بنا لیا جائے گا۔

اس دھمکی کے بعد کئی عالمی لیڈروں اور مذہبی شخصیات نے بوکو حرام سے ان طالبات کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ہالی وڈ اسٹار اور اقوام متحدہ کی نمائندہ نے اس تنظیم کے عقائد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچیوں کی تعلیم میں یقین نہیں رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دنیا نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی اور وہ لڑکیوں کو فروخت کردیتے ہیں تو پھر یہ ایک بری مثال قائم ہوجائے گی۔

مختلف اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے لیڈروں نے بوکو حرام کے لیڈر کے بچیوں کی فروخت کے جواز میں اسلامی تعلیمات کو استعمال کرنے کی مذمت کی ہے اور انھوں نے بھی ان بچیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بعض لیڈروں اور تجزیہ کاروں نے نائیجیرین حکومت کو اس بحران کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے ابھی تک ان کی بازیابی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔برطانوی اور فرانسیسی حکومتوں نے بدھ کو اپنے اپنے ماہرین پر مشتمل ٹیمیں نائیجیریا روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا جو وہاں ان بچیوں کی بازیابی کے لیے امریکی ٹیم کی معاونت کریں گی۔نائیجیرین صدر کا کہنا ہے کہ چین نے بھی ایسی معاونت کی پیش کش کی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے نائیجیریا کی اس جنگجو تنظیم اور اس کے ذیلی گروپ انصارو کو دہشت گرد قراردے رکھا ہے۔یہ اقدام نائیجیریا کی تین شمال مشرقی ریاستوں یوب ،بورنو اور آدم وا میں ان گروپوں کی تشدد آمیز کارروائیوں کے بعد کیا گیا تھا۔ان شمال مشرقی علاقوں میں 2009ء کے بعد سے اسلامی مزاحمت کاروں کے حملوں میں ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔

نائیجیریا میں تشدد کے ان واقعات کے بعد عالمی سطح پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔نائیجیری فوج کے بہ قول دہشت گرد حملوں کے بعد غیر محفوظ سرحدوں کے ذریعے پڑوسی ممالک نیجر ،چاڈ اور کیمرون کی جانب چلے جاتے ہیں۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ بوکو حرام کے جنگجوؤں نے ان طالبات کو کہاں رکھا ہوا ہے۔