.

ولادی میر پوتین کے دورۂ کریمیا پر مغرب کی تنقید

کریمیا کو یوکرین کا حصہ سمجھتے ہیں،روسی صدر کا دورہ نامناسب ہے:نیٹو چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے جمعہ کو ریاست کریمیا کا دورہ کیا ہے اور وہاں دوسری عالمی جنگ میں سوویت یونین کی کامیابی کی یاد میں منعقد ہونے والی پریڈ کا معائنہ کیا ہے۔

روسی صدر نے کریمیا کی بندرگاہ سیواستوپول میں دوسری عالمی جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔یوکرین کی اس سابق ریاست کی ریفرینڈم کے نتیجے میں روس میں شمولیت کے بعد وہ پہلی مرتبہ وہاں گئے ہیں لیکن ان کے اس دورے پر امریکا اور معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو نے تنقید کی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اس کے ردعمل مِیں کہا ہے کہ صدر پوتین کے دورے سے یوکرین میں جاری بحران کو بڑھاوا ہی ملے گا۔امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان لارا مگنوسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ''ہم روس کی جانب سے کریمیا کو غیر قانونی طور پر ضم کرنے کے اقدام کو تسلیم نہیں کرتے ہیں''۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسین نے روسی صدر کے دورہ کریمیا کو نامناسب قراردیتے ہوئے روس پر زوردیا ہے کہ وہ وہاں سے اپنے قدم پیچھے ہٹا لے۔

انھوں نے برسلز سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ''ہم ابھی تک کریمیا کو یوکرین کا علاقہ سمجھتے ہیں اور جہاں تک مجھے علم ہے یوکرینی حکام نے پوتین کو کریمیا کے دورے کی دعوت نہیں دی تھی۔اس لیے ہمارے خیال میں ان کا وہاں جانا ٹھیک نہیں ہے''۔

انھوں نے روس پر یورپ میں سکیورٹی کی صورت حال کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''روس کے لیے میرا پہلا پیغام یہ ہے کہ وہ کنارے سے واپس چلا جائے''۔انھوں نے تین بالٹک ریاستوں ایسٹونیا، لٹویا اور لیتھوانیا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک ہونے کے ناتے ان کا دفاع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ان تینوں بالٹک ریاستوں نے روس کے اعتراضات کے باوجود 2004ء میں نیٹو میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ماضی میں یہ تینوں ریاستین سابق سوویت یونین کا حصہ رہی تھیًں۔یوکرین میں جاری بحران کے پیش نظر نیٹو نے علاقے میں جنگی طیاروں کے ذریعے فضائی نگرانی بڑھا دی ہے اور بحری گشت میں بھی اضافہ کردیا ہے۔

فوگ راسموسین نے کہا کہ''1997ء میں نیٹو اور روس کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت فوجی اتحاد علاقے میں جارحیت کے خطرے کی صورت میں فوجی کمک بھیج سکتا ہے اور ہمیں علاقے میں ایک واضح خطرے کا سامنا ہے''۔

قبل ازیں دارالحکومت ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں دوسری عالمی جنگ میں سوویت یونین کی فتح کی یاد میں سالانہ پریڈ ہوئی۔اس میں گیارہ ہزار فوجیوں نے ڈیڑھ سو گاڑیوں کے ساتھ شرکت کی۔صدر پوتین نے پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے سوویت فوجیوں کی عالمی جنگ میں عسکری کامیابیوں کو سراہا۔ اس دن کی مناسبت سے روس میں عام تعطیل ہوتی ہے۔