.

صنعا: القاعدہ جنگجوؤں کا صدارتی محل پرحملہ ،5 ہلاک

یمنی فوج سے جھڑپ میں سعودی سمیت تین جنگجوؤں کی ہلاکت،دوفرانسیسی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے صدارتی محل پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پانچ محافظ ہلاک ہوگئے ہیں۔

صنعا سے العربیہ کے نمائندے حمود منصور نے عینی شاہدین کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ حملے کے بعد صدارتی محل کے آس پاس سے شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دی ہیں۔اس دوران ایک سرکاری عمارت کے قریب دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

یمن کے ایک عسکری ماہر محسن خدروف نے صدارتی محل پر حملے کو سکیورٹی فورسز کی جنوبی صوبوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا ردعمل قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے جنگجو اب بھی دارالحکومت صنعا سمیت ملک میں کسی بھی علاقے میں حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

قبل ازیں القاعدہ کے جنگجوؤں نے جنوبی صوبہ شیبوۃ کے علاقے محفد میں یمنی وزیردفاع محمد ناصر أحمد کے موٹر کیڈ پر حملہ کیا تھا۔تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔وہ جنوبی صوبے ابین سے القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف فوج کی کارروائی کا جائزہ لینے کے بعد واپس آرہے تھے۔

یمنی وزیردفاع کے قافلے پر حملے کے بعد فوج نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی ہے جس میں ایک سعودی سمیت تین حملہ آور ہلاک اور دو کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔جھڑپ میں تین فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔القاعدہ کے مہلوکین میں ایک چیچن جنگجو بھی شامل ہے۔

گرفتار کیے گئے دونوں افراد فرانسیسی شہری ہیں اور ان کے نام مراد عبداللہ عبد اور طہٰ العیساوی بتائے گئے ہیں۔یہ دونوں فرانسیسی یمن کے ایک ہوائی اڈے کے ذریعے بیرون ملک فرار کی کوشش کررہے تھے۔

یمنی فوج گذشتہ ایک ہفتے سے جنوبی صوبوں ابین اور شیبوۃ میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف زمینی کارروائی کررہی ہے۔اس کو یمن اور امریکا کی فضائی مدد بھی حاصل ہے۔جمعہ کو بھی امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں نے محفد کے پہاڑی علاقے میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر میزائل فائر کیے ہیں۔