ڈرون کا امریکی مسافر طیارے سے ٹکرانے کا انکشاف

ڈیڑھ ماہ کے بعد بھی ڈرون اڑانے والے کا پتہ نہ چلایا جا سکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کی فیڈرل ایوی ایشن انتظامیہ نے انکشاف کیا ہے کہ ماہ مارچ کے دوران امریکی فضائی کمپنی کے ایک طیارے سے ریموٹ کنٹرول کی مدد سے اڑایا جانے والا ڈرون طیارہ ٹکرا گیا تھا۔ ایوی ایشن حکام کے مطابق یہ واقعہ فلوریڈا ائیر پورٹ کے قریب پیش آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ 22 مارچ کو پیش آیا ہے ۔ جب یو ایس ائیر ویز کا پچاس نشستوں والا سی آر 200 جیٹ شمالی کیرولینا سے تلہاسی کی طرف محو پرواز تھا، جب طیارہ فلوریڈا پہنچا تو ڈرون اس کے بہت قریب آ گیا۔

اس ڈرون کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ سات سو میٹر کی بلندی پر اڑ رہا تھا۔ ڈرون کی طرف سے یہ قانون کی خلاف ورزی تھی، کیونکہ قانون کے تحت ضروری ہے کہ جب ڈرون ائیر پورٹ کے ارد گرد ہو تو پہلے سے ایوی ایشن کے متعلقہ حکام کو اطلاع کی جائے۔

حکام کے مطابق فیڈرل ایوی ایشن حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کی ہیں، لیکن ابھی تک ڈرون اڑانے والے آپریٹر کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایوی ایشن کے حکام میں 22 مارچ کے بعد پہلی مرتبہ سان فرانسسکو میں ایک تقریر کے دوران انکشاف کیا ہے۔

اس بارے میں ائیر لائن کے پائلٹ کا کہنا ہے کہ '' کہ ڈرون طیارے کے اس قدر قریب آ گیا تھا کہ وہ یقینا ٹکرایا تھا۔'' کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام نجی طور پر اڑائے جانے والے ڈرون طیاروں کے حوالے معاملات کو بہتر بنائے جانے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں