یمن: دو افراد کی ہلاکت، امریکی افسر واپس پہنچ گئے

ایک سپیشل آپریشن کمانڈ اور دوسرا سی آئی اے کا افسر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دو امریکی افسر دو مسلح یمنی باشندوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد بحفاظت امریکا پہنچ گئے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق ان دونوں مقتول یمنیوں نے امریکیوں کو پچھلے ماہ دارالحکومت میں اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ '' دونوں امریکی افسروں کو اس واقعے کے فوری بعد امریکا منتقل کر دیا۔

دفتر خارجہ کی نائب ترجمان میری حارف نے کہا '' ہم اس امر کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ پچھلے ماہ دو امریکی افسروں نے اس وقت گولی چلا دی تھی جب ان کے ساتھ دو مسلح یمنی باشندوں نے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی تھی، دونوں مسلح افراد کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا اور اس کے بعد امریکی افسروں کو امریکا منتقل کر دیا گیا۔''

واضح رہے یہ واقعہ اس تازہ کشیدگی کے بعد پیش آیا جو یمنی فوج نے القاعدہ کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کرنے کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔ اس سے پہلے القاعدہ کے مبینہ عسکریت پسندوں نے یمنی صدر کے محل پر ماہ اپریل کے آخری دنوں میں ہی حملہ کیا تھا۔ اس حملے کے دوران پانچ حفاظتی گارڈ مارے گئے تھے۔

یمنی سکیورٹی حکام کے مطابق جب مسلح دہشت گردوں نے ایوان صدر کی عمارت کے قریب ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کیا تو صدر عبدالربہ منصور ہادی محل میں موجود نہ تھے۔ اس بارے میں نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 24 اپریل کو یمن میں پیش آنے والے واقعے میں جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ سے وابستہ ایک امریکی لیفٹیننٹ کرنل اور سی آئی اے کا ایک افسر شامل تھا جنہوں نے دو یمنیوں کو ہلاکت سے دوچار کیا ۔

بعض رپورٹس کے مطابق یہ دونوں افسر یمن میں ایک حجام کی دکان پر سر منڈوانے کیلیے موجود تھے تاہم حتمی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں امریکی افسر یمن کے دارالحکومت میں کس مقصد کیلیے موجود تھے۔

واضح رہے پاکستان میں بھی 2011 میں ایک امریکی افسر ریمنڈ ڈیوس پاکستان کے دو شہریوں کو قتل کر واپس امریکا پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ اسی ہفتے کے دوران بھی امریکی ادارے ایف بی آئی کا ایک افسر جوئیل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ائیر پورٹ سے اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا ، جسے بعدازاں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں