.

اسرائیلیوں کی تیونس آمد، پارلیمان میں وزراء سے پوچھ تاچھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی پارلیمان میں جمعہ کو دو وزراء سے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے کوششوں پر پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ان دونوں وزراء پر الزام ہے کہ انھوں نے اسرائیلی سیاحوں کا خیر مقدم کیا تھا حالانکہ تیونس صہیونی ریاست کو تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔

گذشتہ ماہ تیونسی پارلیمان میں وزیرسیاحت امال کربول اور نائب وزیرداخلہ رضا صفر کے خلاف مذمتی تحریک پیش کی گئی تھی۔اول الذکر خاتون وزیر پر الزام ہے کہ انھوں نے حال ہی اسرائیلی سیاحوں کے ایک گروپ کا ملک میں آمد پر خیرمقدم کیا تھا جبکہ نائب وزیرداخلہ نے ان کے ملک میں داخلے کی منظوری دی تھی۔

قومی اسمبلی میں بحث کا موضوع صرف اسرائیلی تھے جبکہ ارکان نے دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی تیونس آمد پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے۔بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک رکن فیصل جدلوئی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلیوں کے تیونس میں داخلے سے ریاست کی خود مختاری متاثر ہوگی۔

انھوں نے کہا:''ہم نے اس لیے انقلاب برپا نہیں کیا تھا کہ ہمارا پہلا انقلابی قدم صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا بن جائے''۔نائب وزیرداخلہ رضا صفر نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے اپنے اقدامات کا دفاع کیا اور کہا کہ انھوں نے تو گذشتہ کئی برسوں سے نافذالعمل طریق کار ہی کی پیروی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یہ کیس تو خالصتاً انتظامی ہے ،ہم اسرائیلی کاغذات کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں کرتے ہیں کیونکہ تیونس اسرائیلی پاسپورٹس کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اس لیے صہیونی ریاست سے آنے والے سیاحوں کو ملک میں داخلے پر تیونسی پاس جاری کیے جاتے ہیں''۔

انھوں نے اسرائیلیوں کے ملک میں داخلے کا یہ بھی جواز پیش کیا کہ انھوں نے ایسا تیونس کے خلاف ایک بین الاقوامی مہم کے ردعمل میں کیا ہے کیونکہ اس پر امتیازی برتنے کا الزام عاید کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ تیونس بہت سے عرب ممالک کی طرح فلسطینی نصب العین کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہے لیکن وہ عرب دنیا کا سب سے لبرل ملک بھی ہے اور وہاں قریباً پندرہ سو یہودی آباد ہیں۔ان مِیں سے نصف جزیرے جربۃ میں رہ رہے ہیں۔اسی جزیرے میں افریقہ میں یہود کا سب سے قدیم معبد (کنیس) ہے جس کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے یہودیوں کی آمد آمد ہے۔اس مقام پر یہود کا تین روزہ مذہبی تیوہار آیندہ جمعہ سے شروع ہوگا۔