.

بُوکو حرام کے سربراہ کی 'تھیچر' کے قتل کی دھمکی

اللہ نے جس کے قتل کا حکم دیا ہے اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا: شیکاؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک نائیجیریا میں اسکول کی دو سو سے زائد طالبات کے مبینہ اغواء میں ملوث قرار دی گئی شدت پسند عسکری تنظیم 'بوکو حرام' کے سربراہ ابو بکر شیکاؤ نے دیدہ دلیری کے ساتھ دھمکی دی ہے کہ "مُجھے اللہ نے جس کے قتل کا حکم دیا ہے اسے کسی صورت میں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ کسی کی جان لینے میں میری راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں کیونکہ میں بھیڑ بکریوں اور مرغیوں کو ذبح کرنے کو بہت پسند کرتا ہوں"۔

ایسے لگ رہا ہے کہ ابو بکر شیکاؤ شدت پسند ہونے کے ساتھ عالمی سیاست سے مکمل طور پر بے بہرہ اور جاہل مطلق واقع ہوا ہے کیونکہ اس نے سابق برطانوی وزیر اعظم اور لیبر پارٹی کی سابق سربراہ آنجہانی مارگریٹ تھیچر کو بھی قتل کی دھمکی دی ہے حالانکہ وہ کب کی فوت ہو چکی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سنہ 2009ء میں "بوکو حرام" کے خلاف نائیجریا کے فوجی آپریشن کے وقت پولیس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تنظیم کے سربراہ الشیخ محمد یوسف کے علاوہ اس کے نائب ابو بکر شیکاؤ کو بھی ٹھکانے لگا دیا ہے، لیکن سنہ 2012ء میں یو ٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں شیکاؤ نے نہ صرف زندہ ہونے کا دعویٰ کیا بلکہ اس نے اندرون ملک کئی بڑی عسکری کارروائیوں کی بھی ذمہ داری قبول کی۔ پُرتشدد کارروائیوں میں عام شہریوں بالخصوص مسیحی برادری کے سرکردہ رہ نماؤں اور نائیجیریا کی فوج اور پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کے بعد اب اسکول کی طالبات کو یرغمال بنانے جیسے خوفناک واقعات شامل ہیں۔ طالبات کے اغواء سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ابو بکر شیکاؤ اپنے پیشرو الشیخ یوسف سے زیادہ سفاک، پرتشدد، بے رحم اور جاھل واقع ہوا ہے۔

امریکی وزارت انصاف کی رپورٹ کے مطابق ابو بکر شیکاؤ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں مل سکی ہے۔ اس کی تاریخ پیدائش کی 1965، 1969 اور 1975ء کی تین الگ الگ تاریخیں ملتی ہیں۔ شیکاؤ شمال مشرقی ریاست 'یوبی' میں پیدا ہوا۔ اس نے پڑوسی ریاست بورنو کے میڈو گری شہر کے مختلف علماء سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ وہیں پر اس کا تعارف اس کے ہم عمر نوجوان عالم دین محمد یوسف کے ساتھ ہوا، جس نے آگے چل کر سنہ 2002ء میں میڈو گری شہر میں بوکو حرام نامی تنظیم قائم کی۔ شیکاؤ بھی اس تنظیم میں شامل ہوا۔

اس تنظیم کا بنیادی مطالبہ ملک میں موجود تمام مشنری اسکولوں اور مغربی طرز کے تعلیمی اداروں کو بند کرانا اور شمالی نائیجیریا میں شریعت کا نفاذ تھا، لیکن حکومتی پالیسیوں، بے روزگاری، غربت اور کرپشن سے تنگ نوجوان بھی تنظیم کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہو گئے۔ آغاز میں محمد یوسف نے اپنی جماعت کا نام "جماعت اھل سنت برائے دعوت وجہاد" رکھا لیکن اس کا سارا زور مغربی تعلیمی اداروں کے خلاف تھا، اس لیے اصل نام کے بجائے اسے "بوکو حرام" کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔

مبصرین کے خیال میں سنہ 2002ء میں قیام کے بعد سے 2009ء تک بوکو حرام کی طرف سے کوئی قابل ذکر عسکری کارروائی کا سراغ نہیں ملتا لیکن میڈو گری میں قائم اس تنظیم کے مرکز، مدرسے اور الشیخ یوسف کی حکومت مخالف تقاریر نے جوبا کو سخت پریشان کر رکھا تھا۔ 2009ء میں تنظیم کے خلاف آپریشن کے بعد ملک بھر میں عسکری کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ وسط اپریل میں میڈو گری کے قریب ایک اسکول کی سو سے زائد طالبات کو اغواء کیا گیا تو ابو بکر شیکاؤ نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ اس نے دھمکی دی کہ وہ مغوی لڑکیوں کو فروخت کر سکتے ہیں یا ان سے جبری شادیاں کریں گے۔

اسکول کی بچیوں کے اغواء کے بعد نائیجیریا میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ ابو بکر شیکاؤ محمد یوسف سے زیادہ شقی القلب واقع ہوا ہے۔ عالمی کرائسز گروپ کی جانب سے جاری ایک تجزیاتی رپورٹ میں بھی ابو بکر شیکاؤ کو محمد یوسف کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن، پرتشدد اور سفاک قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کے خیال میں ابو بکر شیکاؤ نے جب سے بوکو حرام کی قیادت سنھبالی ہے نائیجیریا میں مسلمانوں، مسیحی برادری، عام شہریوں اور فوجیوں پرحملوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ دلچسپ بات تویہ ہے کہ نائیجیریا میں اسلامی شریعت کے نفاذ اور مغربی تعلیم کو حرام قرار دینے کا مطالبہ کرنے والے ابو بکر شیکاؤ کو یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ جن جن کے قتل کی دھمکی دے رہا ہے وہ تو پہلے ہی اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں۔ مثلا اس نے دھمکی آمیز بیان پر مشتمل ویڈیو میں سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر اور آنجہانی پوپ یوحنا پولس دوم کو قتل کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے حالانکہ یہ دونوں کب کے اس جہاں فانی سے کوچ کر چکے ہیں۔