.

مغرب کا میزائل پروگرام پر تحدید کا مطالبہ احمقانہ ہے:خامنہ ای

مغربی طاقتوں کو جوہری مذاکرات میں شفافیت کے سوا کچھ نہیں پیش کرسکتے:روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مغرب کی جانب سے اپنے ملک کے میزائل پروگرام پر تحدیدات کے مطالبے کو احمقانہ اور بیوقوفانہ قرار دیا ہے اور پاسداران انقلاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ میزائلوں کی تیاری جاری رکھیں۔

وہ اتوار کو پاسداران انقلاب ایران کے زیر اہتمام ایک ایروناٹیکل میلے کے موقع پر سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا:''وہ (اہل مغرب) ہم سے یہ توقع کرتے ہیں کہ ہم اپنے میزائل پروگرام کو محدود کردیں جبکہ وہ ایران کو مسلسل فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ان کی یہ توقع احمقانہ اور بیوقوفانہ ہے''۔

علی خامنہ ای نے کہا کہ ''پاسداران انقلاب کو اپنے پروگرام کو جاری رکھنا چاہیے اور اس کی موجودہ سطح سے مطمئن نہیں ہوجانا چاہیے۔انھیں بڑے پیمانے پر میزائل تیار کرنے چاہئیں اور یہ تمام فوجی عہدے داروں کا فرض ہونا چاہیے''۔

درایں اثناء ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک مغربی طاقتوں کو جوہری مذاکرات میں شفافیت کے سوا کچھ اور پیش نہیں کرسکتا ہے۔سرکاری ٹیلی ویژن سے براہ راست نشر ہونے والی تقریر میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنا چاہتا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ''ہم مذاکرات کی میز پر انھیں شفافیت کے سوا کچھ پیش نہیں کرسکتے ہیں مگر ہماری جوہری ٹیکنالوجی پر بات چیت نہیں ہوسکتی ہے۔ایران جوہری ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور ہم جوہری نسل پرستی کو بھی قبول نہیں کریں گے''۔

آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی نے یہ بیانات ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات کے نئے دور سے صرف دوروز قبل جاری کیے ہیں۔ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے اور ایران کے درمیان ان مذاکرات سے قبل سوموار کو بات چیت ہورہی ہے۔اس میں 15 مئی تک ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایران نے نومبر 2013ء میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ یورینیم کو افزودہ کرنے کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے سمجھوتے سے اتفاق کیا تھا جس کے بعد اس پر عاید کردہ بعض عالمی قدغنیں ختم کردی گئی ہیں۔اب اس سمجھوتے کو حتمی معاہدے کی شکل دینے کے لیے مذاکرات کیے جارہے ہیں لیکن اس سے قبل آئی اے ای اے ایران کے ڈیٹونیٹرز سے متعلق اپنی تشویش کو دور کرنا چاہتا ہے۔ان کی مدد سے جوہری ڈیوائس کو چلایا جاسکتا ہے اور ایران کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے اس ڈیوائس کو تیار کر لیا ہے۔

ایران قبل ازیں مذکورہ سمجھوتے کے تحت آئی اے ای اے کے ساتھ طے پائے سات نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کرچکا ہے اور ان کے تحت اس نے عالمی معائنہ کاروں کو اپنی دو جوہری تنصیبات کے معائنے کی بھی اجازت دے دی تھی۔