.

بھارتی انتخابات کا آخری مرحلہ، نریندر مودی کیلیے فیصلہ کن

ووٹوں کی گنتی سولہ مئی کو ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھاتی عام انتخابات کا آخری مرحلہ آج مکمل ہو جائے گا۔ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی کی حامل اس جمہوریہ کے لیے نو مراحل پر مشتمل انتخابی عمل کا آغاز سات اپریل کو ہوا تھا۔ آج پیر کی صبح آخری مرحلے میں شامل لوک سبھا کی 41 نشستوں کے لیے پولنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پولنگ کا عمل جاری ہے۔ آج ہونے والی پولنگ نریندر مودی کے سیاسی مستقبل کیلیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی۔

آج شروع ہونے والے اس مرحلے کی اہم ترین بات یہ ہے کہ آب تک کے تقریبا تمام انتخابی جائزوں میں آگے رہنے والے جماعت بی جے پی کے وزارت عظمی کیلیے نامزد امیدوار نریندر مودی، عام آدمی پارٹی کی سربراہ اروند کیجروال اور کانگریس کے امیدوار اجے رائے کا آمنے سامنے ہونا ہے۔ ان تینوں کے درمیان یہ مقابلہ بنارس کی ایک نشست پر ہو رہا ہے جہاں کانگریس کے روایتی اثرات کے باوجود نریندر مودی کو عوامی سطح پر مقبولیت حاصل ہونا ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ کو تبدیلی کے خواہاں رضا کاروں کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے۔

آج شروع ہونے والی پولنگ میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادیو اعظم گڑھ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یوں ہندو اثرات کے حامل اترپردیش، بہار اور بنگال کے سیاسی اعتبار سے متحرک ترین علاقوں میں پولنگ جاری ہے، ماہرین کے مطابق بنارس کی نشست نریندر مودی کیلیے سیاسی حوالے سے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر وہ یہ سیٹ نہ لے سکے تو ان کی وزارت عظمی کا خواب پریشان ہو سکتا ہے۔

واضح رہے بھارت کو رجسٹرڈ ووٹروں کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کہا جاتا ہے، کہ کوئی دوسرا ملک آبادی کے حوالے سے ایسا نہیں ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں ووٹر موجود ہوں۔ بھارتی رجسٹرڈ ووٹروں کی مجموعی تعداد 81 کروڑ 70 لاکھ کے قریب ہے۔

اس آخری مرحلے کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں لوک سبھا 41 نشستوں کیلیے تمام اہم پارٹیاں اپنا پورا زور لگا رہی ہیں ۔ اس موقع پر سکیورٹی کے بھی غیر معمولی انتطامات کیے گئے ہیں۔ نو مراحل میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی 16 مئی کو ہو گی۔

بھارتی انتخابات کے دوران متنازعہ ریاست جموں و کشمیر سمیت ایسی ریاستوں میں ووٹوں کا عمل کسی حد تک متاثر رہا جہاں علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ بعض علاقوں میں تشدد کے واقعات بھی رونما ہوئے رہے ہیں۔ جن میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر لوگوں کو نشانہ بنانے جانے کے واقعات ہونے کے علاوہ انتخابی عملے کو بھی ٹارگٹ کیا گیا۔