.

مصر کے صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنا حرام ہے: قرضاوی

"اقتدار پر شب خون مارنے والے امیدوار کو ووٹ دینا خلاف اسلام ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری نژاد قطری عالم دین علامہ یوسف القرضاوی نے مصری عوام پر زور دیا ہے کہ 26، 27 کو ہونے والے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق علامہ قرضاوی کا یہ فتوی ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب پیش آئند صدارتی انتخاب میں سابق فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی کی کامیابی کو نوشتہ دیوار قرار دیا جا رہا ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی کے بقول عبدالفتاح نے منتخب حکومت کو شب خون مار کر ختم کیا اور پھر اقتدار پر قابض ہوا، ایسے امیدوار کو ووٹ دینا حرام ہے۔

علامہ یوسف القرضاوی نے فتوی نما اپنا بیان قطر کے دارلحکومت دوحہ میں انٹرنیشنل یونین آف اسلامی اسکالرز کے زیر اہتمام القدس کانفرنس کے اختتام پر جاری کیا۔ یاد رہے کہ انٹرنیشنل یونین آف اسلامی اسکالرز کے صدر علامہ یوسف القرضاوی خود ہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پورے کا پورا فسلطین جلد یہودی تسلط سے آزاد ہو گا۔

کانفرنس کے بعد علامہ یوسف القرضاوی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹڑ' پر متعدد پیغامات میں کہا کہ "میں ہر اس اقدام کا حامی ہوں جو مصر میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کا مخالف ہے۔ میں مصر کا شیرازہ متحد دیکھنا چاہتا ہوں، اس سلسلے میں تمام کوششوں کو مجتمع کرنے کا خواہاں ہوں۔ میں مصر کا اعتماد بحال دیکھنا چاہتا ہوں، میں دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مزاحمت کا پرچارک ہوں۔"

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے واضح کیا کہ"میری رہائش گاہ قطر سے تیونس یا کسی دوسرے ملک منتقلی کے بارے میں قیاس آرائیاں بہت سے لوگوں کی ناکام خواہش کا مظہر ہیں۔ دن میں خواب دیکھنے والوں کی ایسی خواہشات کبھی رنگ نہیں لا سکیں گی، ان شاء اللہ۔

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے مصر کے گیارہ جنوری کے اس انقلاب کے احیاء کی مکمل حمایت کی جس کے نتیجے میں تیس سال سے اقتدار پر قابض حسنی مبارک کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔

یاد رہے کہ گذشتہ دو ماہ سے علامہ یوسف القرضاوی میڈیا کی چکا چوند سے دور تھے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے قطر میں تعینات اپنے سفرا کی واپسی کے بعد سے علامہ قرضاوی نے دوحہ کی کسی مسجد میں خطبہ جمعہ نہیں دیا۔

تینوں خلیجی ملکوں نے دوحہ سے اپنے سفیروں کی واپسی کا غیر معمولی سفارتی اقدام ان الزامات کے بعد اٹھایا کہ قطر ان ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے خطے کی سیاست کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کیونکہ ایسا دوحہ خم ٹھوک کر ان تحریکوں کی مدد کر رہا ہے جو علاقے میں سیاسی اسلام کو راسخ کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔

علامہ یوسف القرضاوی مصری نژاد عالم دین ہیں، تاہم ان کے پاس اس وقت قطری شہریت ہے۔ وہ عرب دنیا میں اخوان المسلمون کے پرجوش حامی سمجھے جاتے ہیں۔