.

بوکو حرام نے یرغمال طالبات کی ویڈیو جاری کردی

نائیجیریا کی جیلوں میں قید جنگجوؤں کے بدلے میں طالبات کو رہا کرنے کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نائیجیریا کے جنگجو گروپ بوکو حرام نے گذشتہ ماہ یرغمال بنائی گئی اسکول کی دوسو سے زیادہ طالبات کی ایک ویڈیو جاری کی ہے اور انھیں جیلوں میں قید یا حکام کے زیر حراست اپنے جنگجوؤں کے بدلے میں رہا کرنے کی پیش کش کی ہے۔

بوکوحرام کے لیڈر ابوبکر شیکاؤ کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ اس ویڈیو میں کم سے کم ایک سو طالبات کو کسی نامعلوم مقام میں موجود دکھایا گیا ہے۔انھوں نے مکمل نقاب اوڑھ رکھے ہیں اور وہ نماز ادا کررہی ہیں۔اس ویڈیو کا دورانہ سترہ منٹ ہے اور اس میں ابو بکر شیکاؤ خود بول ہورہے ہیں اور اپنے مطالبات پیش کررہے ہیں۔

نائیجیریا کی حکومت نے اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ بوکو حرام کی پیش پیش کے جواب میں طالبات کی بازیابی کے لیے تمام آپشنز پر غور کررہی ہے۔درایں اثناء امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین سکئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یرغمال طالبات کی تلاش میں مدد دینے والے امریکی ماہرین بوکوحرام کی جانب سے جاری کردہ نئی ویڈیو کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ لڑکیوں کا سراغ لگایا جاسکے۔

واضح رہے کہ بوکو حرام کے مسلح جنگجوؤں نے 14 اپریل کو نائیجیریا کے کیمرون کی سرحد کے نزدیک واقع ایک گاؤں شبوک میں ایک سکینڈری اسکول سے دو سو چھہتر طالبات کو اغوا کر لیا تھا۔اس وقت وہ امتحان دے رہی تھیں۔تاہم ان میں سے قریباً پچاس طالبات ان کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

نائیجیریا کی حکومت نے ان طالبات کی تلاش اور بازیابی کے لیے علاقے میں دو ڈویژن فوج بھیجی ہے جبکہ امریکا ،برطانیہ ،اسرائیل اور فرانس سمیت مختلف ممالک نے اپنی معاونت اور ماہرین بھیجنے کی پیش کش کی ہے لیکن نائیجیری حکومت گذشتہ ایک ماہ سے یرغمال طالبات کی بازیابی کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے اسے عالمی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

نائیجیری صدر گڈلک جوناتھن نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ عالمی برادری کی جانب سے فوجی اور انٹیلی جنس امداد سے انھیں امید بندھی ہے اور انھیں توقع ہے کہ وہ یرغمال لڑکیوں کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

بوکو حرام کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ نے گذشتہ سوموار کو جاری کردہ اپنی پہلی ویڈیو میں یرغمال طالبات کو بازار میں فروخت کرنے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ انھیں اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کے بعد سے عالمی سطح پر اس تنظیم کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ستاون مسلم ممالک پر مشتمل''اسلامی تعاون تنظیم'' (او آئی سی) کے دانشوروں اور انسانی حقوق کے حکام نے طالبات کے اغوا کی مذمت کرتے ہوئے بوکو حرام کے پیش کردہ موقف کو اسلام کی گمراہ کن تشریح قراردیا ہے۔

سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے بوکو حرام کی دو سو سے زیادہ طالبات کو یرغمال بنانے پر مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ گروہ اسلام کے تشخص کو داغدار کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ایسے گروہ سیدھے راستے پر نہیں ہیں کیونکہ اسلام لوگوں کو اغوا کرنے ،انھیں ہلاک کرنے اور ان کے خلاف جارحیت کا مخالف ہے۔اسی طرح اغوا شدہ لڑکیوں کے ساتھ شادی کی بھی اجازت نہیں ہے''۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے اتوار کو ایک بیان میں آیندہ ہفتے کے روز پیرس میں نائیجیریا اور اس کے پڑوسی ممالک کے ایک اجلاس کی میزبانی کی پیش کش کی ہے جس میں اس جنگجو گروپ کے خلاف کارروائی کے لیے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔صدر اولاند کے معاونین کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں بینن ،کیمرون ،چڈ اور نیجر کے عہدے داروں کے علاوہ برطانیہ ،یورپی یونین اور امریکا کے حکام کی شرکت متوقع ہے۔