.

''سعودی عرب مارکیٹ میں تیل کی کمی نہیں ہونے دے گا''

تیل کی رسد میں کمی پر پیداوارمیں اضافے کے لیے تیار ہیں:سعودی وزیرعلی النعیمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے روس اور مغرب کے درمیان یوکرین کے بحران پر جاری کشیدگی کے پیش نظر عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد میں ممکنہ کمی کی صورت میں اپنی پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی وزیر تیل علی النعیمی نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں سوموار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''اس وقت سعودی مملکت کی تیل کی یومیہ پیدوار قریباً چھیانوے لاکھ بیرل ہے جبکہ اس کی یومیہ پیدواری صلاحیت ایک کروڑ پچیس لاکھ بیرل ہے۔ہم عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد میں کمی کی صورت میں پیداوار میں اضافے کے لیے تیار ہیں''۔

علی النعیمی نے سیول میں منعقدہ ایک کانفرنس کے موقع پر کہا کہ سعودی عرب اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے دوسرے رکن ممالک تیل کی کسی اضافی طلب کو پورا کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی ایک سو ڈالر فی بیرل قیمت صارفین ،تیل کمپنیوں اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے مناسب ہے۔

یوکرین میں جاری بحران کے پیش نظر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔سوموار کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق 0740 بجے برینٹ نارتھ میں 27 سینٹ اضافے کے ساتھ تیل کی قیمت 108.16 ڈالرز فی بیرل تھی اور امریکا میں خام تیل کی قیمت تین سینٹ کے اضافے کے ساتھ 100.02 ڈالرز فی بیرل رہی تھی۔

سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ اوپیک کو اپنے آیندہ اجلاس تک تیل کی موجودہ یومیہ پیدوار تین کروڑ بیرل برقرار رکھنی چاہیے کیونکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی یہ رسد مناسب ہے اور اس کا طلب کے ساتھ توازن برقرار ہے،اس لیے مارکیٹ مستحکم ہے اورفی الوقت پیدوار میں ردوبدل کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اوپیک کا آیندہ اجلاس 11 جون کو ہوگا اور اس میں امریکا میں تیل کی پیدوار میں اضافے اور اوپیک کے بعض رکن ممالک کی جانب سے پابندیوں اور تنازعات کے خاتمے کے بعد اپنے اپنے کوٹے کے مطابق پیدوار بڑھانے کے مطالبے پر غور کیا جائے گا۔

اوپیک کے دورکن ممالک ایران اور عراق کو ماضی قریب میں عالمی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔ایران تیل پیدا کرنے والا تنظیم کا دوسرا بڑا رکن ہے لیکن دو سال قبل اس پر جوہری پروگرام کے تنازعے پر پابندیاں لگا دی گئی تھیں جو اب ختم کی جارہی ہیں اور وہ اپنے سابقہ کوٹے کے مطابق تیل کی پیدوار میں اضافہ اور اسے عالمی مارکیٹ میں بھیجنا چاہتا ہے۔عراق پر بھی سابق صدر صدام حسین کے دور سے عاید کردہ عالمی پابندیوں کا بتدریج خاتمہ کیا جارہا ہے۔

تاہم علی النعیمی نے اس امکان کو مسترد کردیا ہے کہ دوسرے ممالک کی پیدوار کی عالمی مارکیٹ میں رسائی کے لیے سعودی مملکت کی تیل کی یومیہ پیدوارمیں کمی کردی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ ہمارے تیل کو پسند کرتے ہیں،اس لیے پیدوار میں کمی کا کوئی جواز نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اوپیک نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال تیل کی عالمی طلب میں قریباً گیارہ لاکھ چالیس ہزار بیرل یومیہ اضافہ ہوگا۔یہ مقدار تنظیم کی سابقہ پیشین گوئِی سے پچاس ہزار بیرل یومیہ زیادہ ہے۔اس کے علاوہ تنظیم نے 2014ء کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی طلب میں موجودہ مقدار کے مقابلے میں ایک لاکھ بیرل یومیہ اضافے کی پیشین گوئی کی ہے۔