بغداد: پے در پے کاربم حملوں میں 28 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے دارالحکومت بغداد کے مختلف علاقوں میں پے درپے متعدد کار بم دھماکوں میں اٹھائیس افراد ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی حکام کے مطابق منگل کو سارا دن شہر کے مختلف علاقے دھماکوں سے گونجتے رہے ہیں۔صبح کے وقت بغداد کے علاقے صدر سٹی میں پہلا کاربم دھماکا ہوا جس میں چار افراد ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے۔صدر سٹی ہی میں رہائشی مکانوں کے نزدیک ایک اور بم دھماکے میں دو افراد مارے گئے ہیں۔

اس کے بعد عراقی دارالحکومت کے مشرقی علاقے جمیلہ میں تیسرا کاربم دھماکا ہوا،اس میں تین افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے۔حملہ آوروں نے شہر کے مشرقی علاقے ہیں میں ٹریفک پولیس کے دفتر کو کار بم حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت چار افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔

شہر کے شیعہ اکثریتی آبادی والے دو اور علاقوں اُر اور معامل میں بھی مزاحمت کاروں نے بازاروں اور چوکوں میں کار بم دھماکے کیے ہیں۔ان میں دس افراد مارے گئے ہیں اور تیس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔آج سہ پہر کے وقت جنوبی علاقے الدورہ میں ایک مارکیٹ کے نزدیک بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔اس واقعے میں پانچ افراد مارے گئے اور بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

بغداد میں یہ کار بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اہل تشیع حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یوم ولادت منا رہے تھے اور حملہ آوروں نے زیادہ تر شیعہ اکثریتی علاقوں ہی کو اپنے کار بم دھماکوں میں نشانہ بنایا ہے۔تاہم فوری طور پر کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

عراق میں رواں سال کے آغاز کے بعد سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ ساڑھے چار ماہ میں کم سے کم تین ہزار افراد بم دھماکوں ،جھڑپوں اور فائرنگ کے واقعات میں مارے جاچکے ہیں۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق 2013ء میں عراق میں تشدد کے واقعات میں 8868 افراد مارے گئے تھے اور یہ 2007 اور 2008ء میں فرقہ وارانہ خونریزی کے بعد جنگ زدہ عراق میں ایک سال میں سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں