نائیجیریا: طالبات کی بازیابی کے لیے بوکو حرام سے بات چیت

جنگجو گروپ سے بات چیت کے لیے حکومت نے مذاکراتی کمیٹی قائم کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نائیجیریا کی حکومت نے دوسو سے زیادہ طالبات کو یرغمال بنانے والے جنگجو گروپ بوکو حرام کے ساتھ ان کی بازیابی کے لیے منگل کو مذاکرات کے آغاز کی اطلاع دی ہے۔

نائیجیریا کے خصوصی ذمے داریوں کے وزیر تینیمو طراقی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''مذاکرات کی کھڑکی ابھی کھلی ہوئی ہے۔حکومت نے بوکو حرام کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے اور وہ طالبات کی بازیابی کے لیے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائے گی''۔مسٹر طراقی ہی کو اس مذاکراتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

بوکو حرام نے گذشتہ روز یرغمال بنائی گئی اسکول کی دوسو سے زیادہ طالبات کی ایک ویڈیو جاری کی تھی اور جیلوں میں قید یا حکام کے زیر حراست اپنے جنگجوؤں کے بدلے میں انھیں رہا کرنے کی پیش کش کی تھی۔نائیجیری حکومت نے اس کے ردعمل میں کہا تھا کہ وہ بوکو حرام کی پیش پیش کے جواب میں طالبات کی بازیابی کے لیے تمام آپشنز پر غور کررہی ہے۔

واضح رہے کہ بوکو حرام کے مسلح جنگجوؤں نے 14 اپریل کو نائیجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو کے ایک گاؤں شیبوک میں ایک سکینڈری اسکول سے دو سو چھہتر طالبات کو اغوا کر لیا تھا۔اس وقت وہ امتحان دے رہی تھیں۔تاہم ان میں سے قریباً پچاس طالبات ان کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

بورنو کے گورنر کاشم شیطما شیطما نے اس ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد ابوجا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''اس میں نظرآنے والی تمام لڑکیاں گورنمنٹ گرلز اسکینڈری اسکول شیبوک کی طالبات ہیں اور شیبوک کمیونٹی کے افراد نے بھی ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اس امر کی تصدیق کردی ہے۔

درایں اثناء افریقہ میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ روڈریگو نے نائیجیری حکام کے ساتھ یرغمال طالبات کی بازیابی کے لیے ممکنہ مدد اور اس ضمن میں مجحموعی تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔وہ سوموار کو ابوجا پہنچے تھے لیکن ان کا یہ دورہ طالبات کو یرغمال بنانے کے واقعہ سے پہلے کا طے شدہ تھا۔

ایک امریکی عہدے دار نے بتایا کہ وہ ابوجا میں امریکی سفارت کاروں اور فوجی افسروں سے بھی بات چیت کرنے والے تھے۔قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین سکئی نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ یرغمال طالبات کی تلاش میں مدد دینے والے امریکی ماہرین بوکوحرام کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ لڑکیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔

نائیجیریا کی حکومت نے ان طالبات کی تلاش اور بازیابی کے لیے علاقے میں دو ڈویژن فوج بھیجی ہے جبکہ امریکا ،برطانیہ ،اسرائیل اور فرانس سمیت مختلف ممالک نے ابھی اس کی معاونت کے لیے اپنے ماہرین بھیجے ہیں۔ نائیجیری حکومت گذشتہ ایک ماہ سے یرغمال طالبات کی بازیابی کے لیے اب تک کوئی ٹھوس اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے اسے عالمی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا ہے اور اس نے ہر طرف سے تنقید کے بعد اغوا کار گروہ سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں