.

خلیج کی سکیورٹی، امریکا وعدے پورے کرے:سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکا پر زوردیا ہے کہ وہ خلیج کی سکیورٹی سے متعلق اپنے وعدے پورے کرے اور خطے کو درپیش اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کو ملحوظ رکھے۔

سعودی ولی عہد نے یہ بات جدہ میں امریکی وزیردفاع چَک ہیگل اور خلیج تعاون کونسل کے وزرائے دفاع کے بدھ کو منعقدہ اجلاس کے موقع پر کہی ہے۔شہزادہ سلمان نے کہا کہ ''ہم آج ایسے وقت میں مل بیٹھے ہیں جب خطے کی سکیورٹی اور استحکام کو مستقل خطرات کا سامنا ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے ہمارے ممالک کی سیاست اور دفاعی حکمت عملیوں کو مربوط بنانے کی ضرورت ہے''۔

انھوں نے امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان مضبوط فوجی تعاون کی ضرورت پر زوردیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ امریکا خلیجی ممالک کی سکیورٹی کو لاحق خطرات اور بعض ممالک کی جانب سے طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوششوں پر نظر رکھے گا۔

شہزادہ سلمان کا کہنا تھا کہ ''بعض عرب ممالک کو سیاسی بحرانوں کا سامنا ہے،بعض ممالک وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور بعض ریاستیں دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کررہے ہیں''۔ان کا اشارہ غالباً ایران کی جانب تھا۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا کے ساتھ تعاون جاری رہے گا۔انھوں نے امریکا اور جی سی سی ممالک کے درمیان تاریخی تزویراتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے خطے میں سکیورٹی اور استحکام لانے میں مدد ملی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی عہدے دار خلیجی ریاستوں کو ایران کے ساتھ عبوری جوہری سمجھوتے کے ضمن میں اپنی حمایت کی یقین دہانیاں کرانے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے تحفظات کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔

خلیجی ممالک امریکا کی جانب سے شامی باغیوں کو مسلح کرنے میں پس وپیش سے کام لینے پر بھی نالاں ہیں۔ امریکا نے صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار باغیوں کو مسلح کرنے کے لیے خلیجی ممالک کے مطالبات کے باوجود محتاط طرز عمل اختیار کررکھا ہے اور انھیں مسلح نہیں کیا۔