.

ایران کی جانب سے سعودی دورے کی دعوت کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے سعودی عرب کی جانب سے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کو دورے کی دعوت کا خیرمقدم کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبدالالہیان نے بدھ کو سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کو بتایا کہ ابھی تک تہران کو الریاض کی جانب سے دورے کا باضابطہ تحریری دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ہے لیکن دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات متوقع ہے اور وزیرخارجہ کا دورہ ایران کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ''ہم علاقائی مسائل کے حل ،غلط فہیموں کے ازالے اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں مدد گار ثابت ہونے والے مذاکرات اور دوروں کا خیرمقدم کرتے ہیں''۔

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے گذشتہ روز الریاض میں نیوزکانفرنس میں بتایا تھا کہ انھوں نے اپنے ایرانی ہم منصب کو مملکت کے دورے کی دعوت دی ہے لیکن انھوں نے ابھی تک اس کا جواب نہیں دیا ہے۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ انھوں نے کب ایرانی وزیرخارجہ کو دعوت نامہ بھیجا تھا۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ جب چاہیں دورے کے لیے آسکتے ہیں،ہم ان کے استقبال کے منتظر ہیں۔

درایں اثناء امریکی وزیردفاع چَک ہیگل نے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی اتحادیوں کو یقین دلایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات سے ان کی سکیورٹی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہ کمزور نہیں ہوگی۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات سے کسی بھی طرح خلیج کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ویانا میں اسی ہفتے جوہری معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت میں پیش رفت ہوگی۔

مسٹر چَک ہیگل کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا خواہ کچھ بھی نتیجہ برآمد ہوتا ہے،اس سے قطع نظر امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار کے حصول میں کامیاب نہ ہو۔انھوں نے بتایا کہ اس وقت خلیج کے خطے میں پینتیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

امریکی وزیردفاع سعودی عرب کے دورے پر ہیں اور انھوں نے بدھ کو ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہےاور خلیج تعاون کونسل کے وزرائے دفاع کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی ہے۔اس اجلاس میں خلیج کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔