.

شامی اپوزیشن لیڈر الجربا کی امریکی صدر سے ملاقات

امریکا نے باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی کا کوئی اشارہ نہیں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے اپوزیشن رہنما احمد الجربا کی قیادت میں ایک وفد نے امریکی صدر باراک اوباما سے اہم ملاقات کی ہے جس میں شام کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بدھ کو علی الصباح وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ احمد الجربا اور امریکی صدر کے درمیان طویل ملاقات ہوئی تاہم اس بیان میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ امریکا شامی اپوزیشن کے مطالبے پر باغیوں کو صدر بشار الاسد کے خلاف لڑائی کے لیے ہتھیار مہیا کرے گا یا نہیں۔ ملاقات کے موقع پر امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس بھی موجود تھیں۔

واشنگٹن میں العربیہ کے بیورو چیف کے مطابق احمد الجربا کی امریکی حکام کے ساتھ ملاقات پونے دو گھنٹے پر محیط تھی، جس میں صدر باراک اوباما آدھ گھنٹہ شریک ہوئے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ذریعے نے شامی اپوزیشن رہ نما کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کو "نتیجہ خیز" قرار دیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر باراک اوباما اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ایڈوائزر سوزان رائس نے کہا کہ بشارالاسد شام میں حکومت اور اقتدار کا حق کھو چکے ہیں۔ شام کے مستقبل میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ صدر اوباما نے شامی اپوزیشن کے کردار کی تعریف کی اور ساتھ ہی احمد الجربا پر زور دیا کہ وہ کسی ایک طبقے کے بجائے تمام شامی باشندوں کی نمائندہ حکومت کی تشکیل کی کوشش کریں۔

شامی اپوزیشن لیڈرنے امریکا کی جانب سے غیر فوجی مقاصد کے لیے 287 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنے پر اوباما انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ امریکا شامی اپوزیشن کو بشار الاسد کے خلاف لڑائی کے لیے اسلحہ بھی فراہم کرے گا یا نہیں کیونکہ گذشتہ ایک ہفتے سے امریکا میں موجود احمد الجربا نے متعدد بار واشنگٹن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بشارالاسد کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے شامی باغیوں کو طیارہ شکن میزائل اور دیگر اسلحہ بھی فراہم کرے۔

بیان کے مطابق ملاقات کے دوران شام میں جاری خانہ جنگی میں انتہا پسندی کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔ امریکی صدر، سوزان رائس اور احمد الجربا تینوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ شامی جنگ میں انتہا پسند عناصر بھی شامل ہو گئے ہیں۔ انتہا پسندوں سے نمٹنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شامی اپوزیشن کے وفد میں شامل خاتون رہ نما ریما العلاف نے کہا کہ امریکی صدر باراک اوباما نے میٹنگ کے دوران دو باتوں پر زیادہ زور دیا۔ ایک یہ کہ شامی اپوزیشن دھڑے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے ساتھ فوجی اور سیاسی تنظیموں میں ہم آہنگی پیدا کریں اور دوم یہ امریکا صرف شام میں موجودہ دہشت گردی اور تشدد ہی کو نہیں دیکھ رہا بلکہ واشنگٹن کی نظریں شام کے مستقبل پر بھی لگی ہوئی ہیں۔ اس لیے امریکا کوئی بھی فیصلہ شام کے مستقل کو مدنظر رکھ کر کرے گا۔

احمد الجربا کی توقعات

امریکی صدر سے ملاقات سے قبل احمد الجربا کا کہنا تھا کہ وہ شامی اپوزیشن اور امریکا کے درمیان تزویراتی تعلقات کے قیام کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ نہتے شامی شہریوں کو اسدی فوج کی بمباری سے بچانے کے لیے نو فلائی زون کی حمایت کرے۔

ذرائع کے مطابق شامی اپوزیشن رہ نما بلند آہنگ توقعات کے ساتھ امریکا کے دورے پر گئے ہیں۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تین بنیادی مطالبات امریکیوں کے سامنے رکھیں گے۔ یہ کہ شام میں جاری تشدد کو بند کرایا جائے۔ جیش الحر کے دہشت گردی مخالف موقف کی تائید کی جائے اور امریکا ایران اور حزب اللہ کو بشار الاسد کی فوجی امداد سے سختی سے روکے۔ اس موقع پر احمد الجربا نے جیش الحر کی کمان میں صدر بشار الاسد کے خلاف بر سر جنگ عسکری گروپوں کی تفصیلات بھی مہیا کیں۔ شامی اپویشن اتحاد کی یہ کوشش ہے کہ جیش الحر کے زیر کمان جنگ میں حصہ لینے والے عسکری گروپوں کے بارے میں عسکریت پسندی کا تاثر ختم کرایا جائے اور عالمی سطح پر انہیں قابل بھروسہ قرار دلوانے کے بعد امریکا اور دوسرے ملکوں سے ان کی فوجی امداد کی راہ ہموار کی جا سکے۔

مبصرین کے خیال میں احمد الجربا جن توقعات کے ساتھ امریکی دورے پر گئے ہیں، وہ فوری طور پر پوری نہیں ہوسکیں گی کیونکہ امریکا، شامی اپوزیشن آرمی کو اسلحہ کی فراہم بالخصوص طیارہ شکن میزائلوں کی فراہم میں محتاط ہے۔ امریکیوں کو خطرہ ہے کہ یہ اسلحہ شام میں انتہا پسند گروپوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں امریکی اسلحہ خود امریکی مفادات کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔

شامی اپوزیشن کے ایک ذریعے نے "العربیہ" کو بتایا کہ احمد الجربا نے اپنے مطالبات میں اپوزیشن اتحاد اور امریکا کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات کے قیام پر زور دیا ہے۔ یہ بات الجربا بھی بہ خوبی جانتے ہیں کہ ان کا یہ پہلا امریکی دورہ ہے اور پہلے ہی دورے میں تمام مطالبات نہیں منوائے جا سکتے۔ وہ فی الوقت شامی باغیوں کے بارے میں امریکیوں کو اعتماد میں لے رہے ہیں تاکہ آنے والے وقت میں ان کے لیے فوجی امداد حاصل کرنے کی راہ آسان بنائی جا سکے۔

امریکی صدر سے ملاقات کے بعد شامی اپوزیشن کے ایک رکن نے کہا کہ صدر اوباما اور سوزان رائیس نے یقین دلایا کہ واشنگٹن شام میں تین جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کو تسلیم نہیں کرے گا بلکہ امریکا کا وزن شام میں اعتدال پسند اپوزیشن کے ساتھ رہے گا، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ شامی اپوزیشن اپنی اعتدال پسند شناخت کو قائم رکھے۔