.

عراق: برطانوی جرائم پر عالمی پراسیکیوٹر متحرک

عالمی عدالت 2006 میں معاملہ بیچ میں چھوڑ چکی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی عدالت نے عراق میں حراستی جرائم کے الزام میں برطانوی فوجیوں کیخلاف مقدمہ کا از سر نو جائزہ شروع کرایا ہے۔ عالمی عدالت نے یہ کارروائی برطانوی فوجیوں کیخلاف 2003 سے 2008 کے درمیان لگنے والے الزامات کے بارے میں کچھ مزید اطلاعات سامنے آنے پر شروع کی ہے۔

ہیگ میں قائم عالمی عدالت نے اس سے پہلے 2006 میں اسی نوعیت کی الزامات کا جائزہ لیا تھا۔ تاہم اس سلسلے میں پوری معلومات اور شواہد دستیاب نہ ہو سکنے کی وجہ سے تحقیقات مکمل نہیں ہو سکی تھیں۔ عالمی عدالت کی پراسیکیوٹر فاتو بینسودا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس بارے میں بتایا ہے کہ '' اس سال کے آغاز پر عراق میں برطانوی فوجیوں کے مبینہ جرائم سے متعلق مجھے معقول معلومات ملی تھیں، یہ معلومات ان معلومات سے زیادہ تھیں جو اس سے پہلے 2006 میں دستیاب ہوئی تھیں۔ ''

اس سے پہلے منگل کے روز ان کے دفتری ذرائع کا کہنا تھا '' اس سال جنوری میں برلن میں موجود انسانی حقوق سے متعلق ایک گروپ اور ایک برطانوی لاء کمپنی نے 250 صفحات پر مشتمل ایک تجزیاتی رپورٹ پیش کی، اس رپورٹ میں زیر حراست رکھے گئے 400 عراقی کسانوں کا احوال تھا تاہم ان میں سے 85 کسانوں کی حراست کے کیس منتخب کر لیے گئے۔ '' اگرچہ اطلاعات اس سے زیادہ لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک کی تھیں۔

دوسری جانب برطانوی حکومت نے اپنے فوجیوں پر اس الزام کو مسترد کیا ہے۔ برطانوی اٹارنی جنرل کا موقف ہے کہ '' برطانوی فوجی دنیا میں بہترین ہیں، اس لیے ہم ان سے اعلی ترین معیار کے مطابق کام کرنے کی توقع کرتے ہیں کہ وہ ملکی اور بین الاقوامی قانوں کی پابندی کریں گے۔ ''

اٹارنی جنرل ڈومینک گریو نے مزید کہا '' میرے خیال میں ہماری افواج کی بڑی اکثریت ان توقعات پر پورا اترتی ہے، جہاں تک ان الزامات کا تعلق ہے ہو سکتا ہے کہ انفرادی طور پر کسی نے قانون شکنی کی ہو، اس لیے ان کے بارے میں جامع تحقیقات کی جانی چاہییں۔''

عالمی پراسیکیوٹر کے مطابق منگل کے روز سے برطانوی فوجیوں کے بارے میں جو جائزہ شروع کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، نہ ہی اس بنیادی جائزے کیلیے وقت کی کوئی حد مقرر کی گئی ہے۔