.

ترکی کان حادثہ، دو سو ہلاکتوں کی تصدیق

دھماکا ترکی کے مغربی حصے میں کوئلے کی ایک کان میں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے مغربی حصے میں ایک کان میں دھماکے کے بعد پھنس کر رہ جانے والے افراد کو بچانے کی کارروائیاں جاری ہیں، جب کہ اب تک اس حادثے میں دو سو سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

حکام کے مطابق اب بھی سینکڑوں افراد زمین کے اندر اس کان میں پھنسے ہوئے ہیں اور رات گئے بھی ان افراد کو بچانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ترکی کی قدرتی آفات سے تحفظ کی ایجنسی ‘AFAD’ نے منگل کی سہ پہر کو کوئلے کی اس کان میں دھماکے کے بعد آگ لگ جانے کے واقعے میں 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، تاہم ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ترکی میں کان کنوں کی یونین کے سربراہ نُوریتن آکُل نے کہا ہے کہ اس کان میں پھنسے ہوئے افراد کی تعداد دو سو سے تین سو کے درمیان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو بچانے کے لیے جاری سرگرمیوں میں وقت کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ہر گزرے لمحے کے ساتھ ان افراد کے بچنے کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز ترک صوبے منیسا کے علاقے سوما میں واقع اس کان میں پیش آنے والے اس حادثے کی ابتدائی وجہ بجلی کے نظام میں خرابی بتائی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے آگ لگی۔ حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا ہے، تاہم اس کان میں شدید دھواں بھر چکا ہے۔

ایک اور سینیئر عہدیدار نے ہلاکتوں کی تعداد بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال تمام تر توجہ پھنسے ہوئے کان کنوں کو بچانے پر مرکوز ہے۔ ’’ہماری پہلی ترجیح اپنے کان کن بھائیوں تک پہنچنے کی ہے۔‘‘

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے مختصر ٹیلی وژن پیغام میں کہا، ’’مجھے امید ہے کہ اگلے کچھ گھنٹوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔‘‘ اس حادثے کے بعد ایردوآن نے البانیہ کا اپنا مجوزہ دورہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔ وہ آج استنبول سے 230 کلومیٹر دور واقع متاثرہ علاقے سوما پہنچیں گے۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اس کان کی مالک کمپنی سوما ہولنڈگ کا پیغام نشر کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی اپنے کارکنوں کو بچانے کی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ اس کمپنی کے مطابق کان کی سیفٹی کی جانچ دو ماہ قبل ہی کرائی گئی تھی۔