.

لیبی وزیر اعظم کے حفاظتی دستے کا تنخواہ نہ ملنے پر احتجاج

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں عبوری وزیر اعظم عبداللہ الثنی کے دفتر کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں نے تنخواہیں نہ ملنے پر حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا اور وزیر اعظم کی گاڑیوں کو دفتر سے باہر جانے سے روک دیا۔

لیبی حکومت کے ایک ذریعے نے برطانوی خبر رساں ایجنسی"رائیٹرز" کو بتایا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے سیکیورٹی عملے کو تنخواہیں نہ ملنے پر سیکیورٹی اہلکار سخت برہم ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم عبداللہ الثنی کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور وزیر اعظم کے قافلے میں شامل کسی گاڑی کو باہر نہیں جانے دیا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا اس وقت وزیر اعظم اپنے دفتر میں تھے یا نہیں۔

خیال رہے کہ عبداللہ الثنی نے ایک ماہ قبل یہ کہتے ہوئے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ کچھ مسلح افراد نے ان کےاہل خانہ پر حملہ کیا ہے، جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر تعینات نہیں رہنا چاہتے۔ پارلیمنٹ نے ان کا استعفیٰ نئے وزیر اعظم کے انتخاب تک روک لیا تھا۔ گذشتہ ہفتے احمد معیتیق کو نیا وزیر اعظم منتخب کیا گیاہے تاہم انہیں باضابطہ طور پر وزارت عظمیٰ کا قلم دان نہیں سونپا گیا۔ نو منتخب وزیر اعظم احمد معیتیق اپنی نئی کابینہ کی تشکیل پر کام کر رہے ہیں۔

طرابلس حکومت کے ترجمان نے بھی وزیر اعظم کے خلاف سیکیورٹی عملے کے احتجاج کی تصدیق کی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والے فوجیوں کا تعلق"127" بریگیڈ سے ہے جو وزیر اعظم ہاؤس کی سیکیورٹی کا ذمہ دار ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس کے ایک اہم عہدیدار نے بتایا کہ پچھلے کئی ماہ سے سیکیورٹی عملے اور دوسرے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملی ہیں، جس کے بعد سرکاری ملازمین حکومت کے خلاف احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔