.

بھارت مودی کے نام، بی جے پی آگے، سیکولرزم پیچھے

کانگریس نے شکست تسلیم کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ووٹروں کی تعداد کے اعتبار سے خود کو دنیا سب سے بڑی جمہوریہ منوانے والے بھارت میں نو مراحل پر مشتمل انتخابات کے نتائج کا منظر آج گنتی شروع ہونے کے ساتھ ہی واضح ہو گیا ہے ۔ ابتدائی نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے ابتدائی طور پر 289 نشستیں جیت کر میدان مار لیا ہے، اس کے مقابلے میں حکمران جماعت کانگریس صرف 63 نشستں جیت پائی ہے۔ یوں نریندر مودی کا وزیر اعظم بننے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں رہی ہے۔

جمعہ کے روز ووٹوں کی گنتی کا یہ عمل آٹھ بجے صبح شروع ہوا تو سب سے پہلے آسام میں کانگریسی وزیر اعلی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے انتخابی نتائج میں بی جے پی کی انتخابی بالا دستی قبول کر لی ہے اور اس کے ساتھ ہی بی جے پی کی جیت ہی خبریں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئیں۔ انتخابی مہم کے دوران سامنے آنے والے تمام تر جائزوں میں بی جے پی کو ہی سب سے آگے دکھایا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق سب سے پہلے تلنگانہ میں ٹی آر ایس اور آندھرا پردیش میں وائی آر ایس کانگریس کو برتری کا رجحان سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے سات اپریل سے 12 مئی تک بھارتی لوک سبھا کی 543 نشستوں کیلیے ہونے والی مرحلہ وار پولنگ کے نتائج آج گنتی کے ساتھ ہی آنا شروع ہو گئے ہیں۔ امکانی طور پر کامیاب امیدواروں اور سیاسی جماعتوں میں غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کامیابی کے جشنوں اور مٹھائیوں کی تقسیم پر ایک ہی دن میں کروڑوں روپے کیے جارہے ہیں۔ اور بی جے پی کے کارکنوں میں جشن کا سماں ہے۔

بھارتی الیکشن کمیشن کی طرف سے ابتدائی طور پر سامنے لائی جانے والی اطلاعات کے مطابق ڈالے گئے ووٹوں کی شرح مغربی بنگال میں سب سے زیادہ اکیاسی اعشاریہ آٹھ رہی، اڑیسہ میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح چوہتر اعشاریہ چار ففیصد رہی، ووٹوں کی شرح کے حوالے سے تیسرے نمبر رہنے والی ریاست آندھراپردیش رہی، جہاں ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب چوہتر اعشاریہ دو فیصد رہی۔ واضح رہے آندھرا پردیش اور اوڑیسہ کی ریاستوں میں لوک سبھا کے ساتھ ساتھ ریاستی اسمبلیوں کیلیے بھی ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

اتر پردیش جو روایتی طور پر سیاست کا اہم گڑھ ہے اور بھارتی نیتا اتر پردیش میں اپنی جیت کو ملک میں اقتدار کیلیے نیک شگون خیال کرتے ہیں۔ اتر پردیش میں الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹوں کی شرح اٹھاون اعشاریہ چھ رہی ہے۔ اسی طرح بہار میں ووٹوں کی شرح اتر پردیش سے بھی کم رہی ہے۔ واضح رہے بھارتی لوک سبھا کی 272 نشستیں جیت لینے والی جماعت یا اتحاد حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔ اس لیے بی جے پی ابتدائی جائزوں کے مطابق نشستیں جیت بھارت کی حکمران بننے جا رہی ہے۔

سات اپریل سے بارہ مئی تک ہونے والے انتخابات میں اٹھارہ اور انیس سال کی عمر کے حامل نئے دو کروڑ اکتیس لاکھ سے زائد ووٹروں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ناطے بھارت نے اگلے برسوں میں چہرے اور رجحانات کی عکاسی کر دی ہے۔