یمن میں القاعدہ کا ماہر بم ساز گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمنی وزارت داخلہ نے ملک کے جنوبی صوبے لحج میں ایک آپریشن کے دوران القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ماہر بم ساز کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔

گرفتار کیے جانے والے محمد حسن جعفر کی شناخت جزیزہ نما عرب میں سرگرم القاعدہ تنظیم سے وابستہ دھماکا خیز مواد تیار کرنے والے ماہر کے طور پر کی گئی ہے۔

یمنی فوج نے سرکاری حکام، سیکیورٹی اہلکاروں، غیر ملکیوں اور بجلی کی تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد عسکریت پسند اسلامی گروپوں کو ملک کے جنوبی علاقے سے بیدخل کرنے کے لیے بڑی جارحانہ کارروائی کا آغاز کیا۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران کی جانے والی یہ سب بڑی کارروائی تھی۔

اگرچہ اس کارروائی میں سرکاری فوج کو چند علاقے کلیئر کرانے میں کامیابی ہوئی، تاہم وہ القاعدہ کی یمنی شاخ کے حملوں سے دارلحکومت کو محفوظ نہیں بنا سکی۔

وزارت داخلہ کے مطابق القاعدہ کے دارلحکومت کو نشانہ بنانے کے متعدد منصوبوں کو یمنی سیکیورٹی اداروں نے ناکام بنایا جس میں دہشت گرد اہم سرکاری اور سیکیورٹی تنصیبات، فوجی ہیڈکوارٹرز اور غیر ملکی سفارتخانوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

بیان میں وزارت داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ صنعاء میں حملوں اور شام سے آنے والے بہت سے غیر ملکیوں کو نشانہ بنانے سے پہلے سیکیورٹی اداروں نے متعدد خودکش دہشت گردوں کو حراست میں لیا۔

اسکے ساتھ چند خودش دہشتگرد عناصر کو دارالحکومت میں حملے کرنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ "ان میں سے کئی غیرملکی بھی تھے جو شام سے آئے تھے۔" وزارتِ داخلہ کے جمعہ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے القاعدہ کے 5 مشتبہ افراد کو جنوبی صوبہ شبوہ سے گرفتار کیا ہے۔

یاد رہے القاعدہ عرب دنیا کے غریب ترین ملک میں ایک اسلامی امارات قائم کرنے کے خواہاں ہے۔ تاہم جزیرہ نما عرب میں سرگرم القاعدہ یمن کو دوسرے ملکوں میں حملوں کی خاطر بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ یمن کی سرحد دنیا میں تیل برآمد کرنے والے سرکردہ ملک سعودی عرب سے بھی ملتی ہے، جس کے باعث یہاں القاعدہ کی سرگرمیاں عالمی تشویش کا باعث ہیں۔

یمنی حکومت اور فوج کے حمایتی امریکا نے مشبتہ عسکریت پسندوں کے خلاف حملوں میں اضافے کے بعد پیدا ہونے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر صنعاء میں اپنا سفارتخانہ عوام کے لیے بند کر رکھا ہے۔ غیر ملکیوں اور مغربی ملکوں کے سفارتی مشنز کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد شہر کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

سنہ 2011ء میں بزرگ سیاستدان علی عبداللہ صالح کے طویل اقتدار کے خلاف مظاہروں کے بعد سے یمن بدامنی کا شکار چلا آ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں