.

ترکی: کان حادثے کے الزام میں 18 افراد کی گرفتاری

مغربی قصبے سوما میں سکیورٹی سخت ،کان کمپنی کے انتظامی افسر بھی زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پولیس نے گذشتہ ہفتے کوئلے کی کان کے الم نام حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں اٹھارہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ان میں کان کمپنی کے انتظامی افسر اور اہلکار بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق مغربی قصبے سوما کی عدالت میں مقامی پراسیکیوٹرز کمپنی کے ملازمین سے پوچھ تاچھ کررہے ہیں۔ہفتے کے روز پولیس نے اس قصبے کا مکمل محاصرہ کر لیا تھا،جگہ جگہ چیک پوائنٹس قائم کردیے تھے اور مظاہروں پر پابندی کی خلاف ورزی کے الزام میں دسیوں افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔آج اتوار کو بھی اس قصبے میں سکیورٹی سخت رہی ہے۔

مغربی قصبے سوما میں کوئلے کی کان میں اس حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد تین سو ایک ہوگئی ہے۔ہفتے کے روز امدادی کارکنوں نے دو باقی لاپتا کارکنوں کی لاشیں نکال لی تھیں اور اس کے بعد ریسکیو آپریشن ختم کردیا گیا ہے۔

سوما مدن چیلیک نامی کمپنی کے زیر انتظام کوئلے کی اس کان میں گذشتہ منگل کو یہ مہلک حادثہ پیش آیا تھا۔کان میں آگ لگنے کے نتیجے میں زہریلی گیس کاربن مونو آکسائیڈ پھیل گئی تھی اور کام میں مصروف کارکنان کان ہی میں دب کر رہ گئے تھے۔ترکی میں کان کنی کا یہ سب سے تباہ کن حادثہ تھا۔

اس مہلک حادثے کے بعد ترکی بھر میں کان مالکان اور وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔مظاہرین نے کان مالکان پر منافع خوری کے لالچ میں مزدوروں کے تحفظ کو نظر انداز کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔