.

افغانوں کو شامی جنگ کا ایندھن بنانے پر کابل کا احتجاج

کابل نے اپنے شہریوں کی شامی لڑائی میں شرکت کی تحقیقات شروع کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان نے ایران میں پناہ گزین اپنے شہریوں کو شامی جنگ میں جھونکے جانے کی خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بارے میں ایران سے سخت احتجاج کیا ہے۔

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ ایران میں موجود افغان پناہ گزینوں کو شام بھجوائے جانے کی اطلاعات درست ہیں تو یہ نہایت خطرناک اور افسوسناک واقعہ ہے۔ تہران حکومت یا کوئی بھی دوسرا ملک افغان شہریوں کو شام سمیت کسی بھی دوسرے ملک میں بھجوانے کا مجاز نہیں ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایرانی حکام اپنے ملک میں موجود افغان پناہ گزینوں کو جبری طور پر شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑائی کے لیے لے جاتے ہیں۔ جنگ کے لیے بھرتی کیے گئے افغانیوں کو ایران میں رہائش کے لیے پرمٹ دیے جانے کے علاوہ 500 ڈالرز ماہانہ مشاہرہ کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔

افغان کے فارسی اخبار "اطلاعات روز" نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں ایران میں موجود افغان شہریوں کو شام کی جنگ میں جھونکے جانے کی تصدیق کی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ درست ہے کہ تہران شام کی جنگ کے لیے بھرتی ہونے والے ایک افغانی کو ماہانہ 500 امریکی ڈالرز پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران میں انہیں رہائش کے لیے پرمٹ الگ سے دیے جاتے ہیں۔

ان خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد افغان وزارت برائے امور پناہ گزین نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کسی ملک کو افغان شہریوں کو بلیک میل کر کے انہیں کسی دوسرے خطے میں جنگ کے لیے بھرتی کرنے یا اپنے مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کے لیے پناہ گزینوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی"۔

افغان وزارت پناہ گزین کے ترجمان اسلام الدین جرات نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران میں موجود افغان پناہ گزینوں کو شام کی جنگ کے لیے بھرتی کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں لیکن ہمارے پاس اس کے مصدقہ ثبوت نہیں ہیں۔ ہم ان خبروں کی تصدیق کر رہے ہیں۔ اگر یہ درست ثابت ہوئیں تو کابل، تہران کے خلاف سخت اقدامات کرے گا"۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ افغانستان میں بدامنی اور معاشی مسائل کے باعث بڑی تعداد میں شہری پڑوسی ملکوں میں ھجرت پر مجبور ہوئے لیکن پڑوسی ملکوں میں بھی ان بیچاروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ وہاں کی حکومتیں افغان مہاجرین کو اپنے مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ انہیں جنگوں میں جھونکا جاتا ہے.

رپورٹ کے مطابق افغان حکومت ایران میں اپنے شہریوں کے شام کی جنگ کے لیے بھرتی کیے جانے کی رپورٹس کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔ اگر یہ رپورٹس درست نکلیں تو کابل، ایران کے خلاف اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بحالی پناہ گزین میں شکایت کر سکتا ہے۔

ایران 14 لاکھ افغانیوں کا مسکن

افغانستان میں سال ہا سال سے جاری اندرونی اور بیرونی جنگوں کے ستائے لاکھوں افغان باشندے پڑوسی ملکوں بالخصوص پاکستان اور ایران میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بحالی پناہ گزین کے اعداد و شمار کے مطابق ایران بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ملکوں میں شامل ہے جہاں پر کم سے کم 14 لاکھ افغان شہری پناہ لیے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران شام میں جاری جنگ میں صدر بشارالاسد کو کمک فراہم کرنے کے لیے ان افغان مہاجرین کو استعمال کر رہا ہے۔ حال ہی میں شام کی جنگ سے فرار اختیار کرنے والے ایک افغان مہاجر حامد اقتدار نے بتایا کہ افغان پناہ گزینوں کے کئی گروپ شام کی جنگ میں بشار الاسد کے شانہ بہ شانہ لڑ رہے ہیں۔ شام کی جنگ میں حصہ لینے والے ہر افغان باشندے کو پرکشش معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کو ایران کی ایک خبر رساں ایجنسی "داشنجو" نے ایک خبر دی تھی کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے والے دو افغان باشندے باغیوں کے حملے میں مارے گئے تھے، انہیں ایران کے مذہبی شہر "قُم" میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔