.

بن علی کا سیکورٹی چیف سزا میں تخفیف ہونے پر رہا

فوجی عدالت نے سزا کی مدت 20 سال سے 3 سال کر دی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں تیس برس تک اقتدار کے مزے لوٹنے والے معزول مرد آہن زین العابدین بن علی کے صدارتی باڈی گارڈ دستے کے زیر حراست سربراہ سزا کے خلاف متنازع اپیل کے اپنے حق میں فیصلے کے بعد گذشتہ روز جیل سے رہا کر دیے گئے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق علی السریاطی کو سنہ 2011ء میں عرب بہاریہ کے موقع پر حکومت مخالف مظاہرین کو قتل کرنے کی پاداش میں بیس سال قید کی سزا ہوئی تھی جس کے خلاف انہوں نے اپیل دائر کر رکھی تھی۔ گذشتہ روز عدالت نے ان کی سزا میں تخفیف کرتے ہوئے انہیں تین سال بعد ہی رہا کرنے کا حکم دیا تھا.

رہائی پانے والے السریاطی کے بھائی یوسف نے خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کو بتایا ان کے بھائی جیل سے رہائی کے بعد گھر پہنچ گئے ہیں۔

گذشتہ مہینے السریاطی کی بیس برس پر محیط سزا میں تخفیف کا فیصلہ ہوا تھا۔ انہیں خطرے سے دوچار افراد کی مدد نہ کرنے کے الزام میں تین سال قید سنائی گئی جو گذشتہ روز مکمل ہونے پر انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا۔

سابق مردِ آہن بن علی کے دو دوسرے ساتھیوں وزیرِ داخلہ رفیق بلحاج قاسم اور سپیشل بریگیڈیز کے سابق کمانڈر جلیل بودریگا کی بھی سزاوں میں اسی فوجی عدالت نے تخفیف کی تھی جس کے بعد شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا۔

تیونس کے رکن پارلیمان مولدی ریاحی کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلے "بڑا صدمہ" ہیں جبکہ ان کے دوسرے ہم عصر ارکان پارلیمنٹ نے رہائی اور سزا میں تخفیف پانے والے مجرموں کے مقدمات کو از سر نو سول عدالت میں چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔