.

قاہرہ: السیسی کی انتخابی ریلی پر بم حملہ، تین زخمی

حملے کے وقت سابق فوجی سربراہ ریلی میں شریک نہیں تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارلحکومت قاہرہ میں سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پیش آئند صدارتی انتخاب لڑنے والے ایک اہم امیدوار اور سابق فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی کی انتخابی ریلی میں ہفتے کی شب ہونے والے بم دھماکے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔

العربیہ ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایک نامعلوم موٹر سائیکل سوار نے گھریلو ساختہ بم السیسی کے حامیوں پر اس وقت پھینکا جب وہ قاہرہ شمالی مشرقی حصے میں ایک ہونے والی کارنر میٹنگ میں شریک تھے۔

سابق فوجی سربراہ بم حملے کے وقت موقع پر موجود نہیں تھے۔ ان کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 26-27 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کر لیں گے کیونکہ بطور فوجی سربراہ ان کے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برخاستگی کے اقدام کی توثیق کرنے والے متعدد مصریوں نے جنرل السیسی کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سیسی اپنی الیکشن مہم کے دوران مظاہروں میں شرکت کرنے سے گریزاں ہیں۔ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران سابق وزیرِ دفاع نے دو مرتبہ خود پر جان لیوا حملوں کا اعتراف کیا، تاہم انہوں نے اسکے متعلق کوئی تفصیل نہ دی۔ یاد رہے حالیہ انتخابی مہم کے دوران اپنی نوعیت کا یہ پہلا حملہ ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکا کہ گذشتہ روز حملہ کا اصل ہدف پولیس اہلکار تھے یا پھر عبدالفتاح السیسی کے حامی۔ اس حملے میں ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا

یاد رہے کہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے کے صدارتی امیدوار حمدین صباحی جرنل السیسی کے واحد مدمقابل ہیں۔ وہ 2012ء کے صدارتی انتخابات میں تیسرے نمبر پر رہے۔

درایں اثنا برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے مصر کے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز انتخابی عمل کو مکمل طور پر پرامن اور محفوظ بنانے کے لیے تیار ہیں۔ وزیرِ داخلہ پر گذشتہ سال قاہرہ میں قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے، تاہم اس میں وہ محفوظ رہے۔