.

طرابلس میں جھڑپوں کے بعد سعودی سفارت خانہ بند

لیبیا میں تشدد کے واقعات کے بعد سعودی عرب نے تمام سفارتی عملہ واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے لیبیا کے مختلف علاقوں میں جاری تشدد کے واقعات کے بعد دارالحکومت طرابلس میں اپنا سفارت خانہ بند کردیا ہے اور تمام سفارتی عملے کو وہاں سے واپس بلا لیا ہے۔

لیبیا میں متعین سعودی سفیر محمد محمود العلی نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ طرابلس سے تمام سفارتی عملہ ایک نجی طیارے کے ذریعے واپس چلا گیا ہے۔

طرابلس میں گذشتہ روز سابق فوجی جرنیل خلیفہ حفتر کے وفادار جنگجوؤں نے پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں تشدد کے واقعات شروع ہوگئے اور رات ملک کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں حملہ آوروں نے ایک ائیربیس اور ایک نجی ٹی وی چینل لیبیا انٹرنیشنل پر راکٹوں سے حملہ کردیا تھا۔

اس چینل نے ایک کرنل کا بیان نشر کیا تھا جس کا کہنا تھا کہ وہ فوج کے ترجمان کی حیثیت سے بول رہا ہے۔ایک صحافی نے بتایا ہے کہ چینل کے دفاتر میں چار راکٹ آ کر گرے تھے جس سے مالی نقصان ہوا ہے لیکن اس سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

درایں اثناء لیبیا کے وزیرانصاف صلاح المرغنی نے ایک نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ اتوار کو طرابلس کے جنوب میں دو متحارب ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپوں میں دو افراد ہلاک اور پچپن زخمی ہوگئے ہیں۔وزیرانصاف کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں کا مشرقی شہر بن غازی میں سابق جنرل کے وفادار جنگجوؤں کی اسلام پسندوں کے خلاف کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وزیرانصاف نے نیوز کانفرنس میں پارلیمان کی عمارت پر حملے کی مذمت کی ہے اور اس جنگجو گروپ کے مطالبات کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے حکومت کی جانب سے جنگجو گروپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائی بند کردے اور سیاسی رائے کے اظہار کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز کرے۔

لیبیا کے ایک سابق جنرل خليفہ حفتر کی وفادار فورسز نے اتوار کو دارالحکومت طرابلس میں پارلیمان جنرل نیشنل کانگریس (جی این سی) کی عمارت پر حملہ کر دیا تھا اور اسپیکر نوری ابو سہمین سمیت سات ارکان کو گرفتار کر لیا تھا۔ خلیفہ حفتر کے جنگجوؤں نے پارلیمان پر قبضے کے بعد جنرل نیشنل کانگریس کومعطل کرنے اور اس کے اختیارات ملک کا نیا آئین تیار کرنے والے ساٹھ رکنی دستور ساز پینل کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جنرل حفتر کے ماتحت لیبیا کی خود ساختہ نیشنل آرمی کے ایک ترجمان مختار فرنانا نے بیان میں کہا ہے کہ جنرل حفتر کے وفادار فوجیوں نے پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بولا ہے۔ان صاحب کے بہ قول یہ بغاوت نہیں ہے بلکہ لوگوں کے انتخاب کی بنا پر یہ لڑائی ہورہی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور طاقتور الزنتان بریگیڈز سے تعلق رکھتے ہیں اور اس جنگجو گروپ کا جنرل حفتر کی قیادت میں ملیشیا سے اتحاد ہے۔سابق صدر معمر قذافی کے خلاف مسلح تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والے اس گروپ کے جنگجوؤں نے طرابلس کے جنوب میں بہت سے علاقوں میں اپنا کنٹرول قائم کررکھا ہے۔

لیبی دارالحکومت میں ان جھڑپوں سے دو روز قبل جمعہ کو ملک کے بد امنی کا شکار دوسرے بڑے شہر بن غازی میں اسلامی جنگجوؤں اور ریٹائرڈ فوجی جنرل خليفہ حفتر کے ماتحت فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں میں ستر سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جنرل خليفہ حفتر کے ترجمان محمد الحجازی نے ایک مقامی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بن غازی سے دہشت گرد گروپوں کا صفایا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کی جارہی ہے۔