آئی سی سی کی پراسیکیوٹر شام پر خصوصی ٹریبیونل کی حامی

بنسوڈا کی 'العربیہ' کے طلال الحاج سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین الاقوامی فوجداری عدالت [آئی سی سی] کی ایک پراسیکیوٹر نے شام میں جاری حالیہ لڑائی کے دوران رونما ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹریبیونل قائم کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار آئی سی سی کی پراسیکیوٹر فاٹو بنسوڈا نے العربیہ نیوز چینل کے نیویارک بیورو چیف طلال الحاج سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بنسوڈا کے مطابق: "میں شام کے بارے میں خصوصی ٹریبیونل کی حمایت کروں گی کیونکہ یہ انصاف، احتساب اور قانون کی بالا دستی کا معاملہ ہے، بالخصوص یہ جنگی جرائم سے متاثرہ شامیوں کو انصاف دلائے گا۔ یہ بات انتہائی اہم ہے، اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔"

فاٹو بنسوڈا کا کہنا تھا کہ فی الوقت "شام نے آئی سی سی کو اس معاملے کی تحقیق کی درخواست نہیں دی اور نہ ہی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے جنگی جرائم کی تفتیش کے لیے کوئی ریفرنس عدالت کو بھیجا ہے۔ نیز شام، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرہ سماعت میں بھی نہیں آتا۔"

واضح رہے کہ گذشتہ چند دنوں سے عالمی ادارے کی سیکیورٹی کونسل میں شامل فرانس اور برطانیہ جیسے دو اہم ملک شام کا معاملہ بین الاقوامی جرائم عدالت میں لیجانے پر زور دیتے چلے آ رہے ہیں۔

فرانس کی تیار کردہ قرارداد کا مسودہ مغربی حمایت یافتہ شامی اپوزیشن کے ان مطالبات کا عملی اظہار ہے جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانیت سوز مبینہ جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

حال میں فرانس کی جانب سے پیش کیے جانے والی قرارداد شامی حزبِ اختلاف کے مطالبات کے جواب میں ہے جسکے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والوں اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو انجام تک پہنچایا جائے اور انصاف مہیا کیا جائے۔

تاہم یہ بات تیقن سے نہیں کہی جا سکتی کہ روس اور چین قرارداد کے اس مسودے کو ویٹو نہیں کریں گے۔ جنگ سے تباہ حال ملک میں آئی سی سی کو اختیار سماعت نہ ہونا بھی کسی عملی اقدام کی راہ میں مزاحم ہو سکتا ہے۔

سوڈان کے علاقے دارفر میں جاری بحران سے متعلق ایک سوال پر بنسوڈا کا کہنا تھا کہ "انہیں وہاں کی صورتحال پر بہت زیادہ تشویش ہے" اور بین الاقوامی کیمونٹی کو اس سلسلے میں بہت کچھ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کے طور پر ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ دارفر میں جرائم ختم نہیں ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس ایسی اطلاعات موجود ہیں جن سے بتا چلتا ہے کہ سوڈان میں جنجوید نامی سرگرم عسکریت پسند گروپ اب بھی عام شہریوں اور ان کے کیمپوں پر حملے کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں