.

رفسنجانی کے دورہ ریاض کی کوششوں میں تیزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر اور گارڈین کونسل کے سربراہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے متوقع دورہ سعودی عرب کے بارے میں دونوں ملکوں کے درمیان ماحول سازگار بنانے کے لیے کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ سابق صدر کے سیکرٹری محمد ہاشمی کا کہنا ہے کہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے دورہ ریاض میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے لیکن اس دورے کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں طرف ماحول کو سازگار بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی تازہ کوششوں کے ضمن میں اعتدال پسند سابق ایرانی صدر کے دورہ سعودی عرب کے بارے میں مطالبات میں شدت آئی ہے۔ گو کہ رفسنجانی کا متوقع دورہ سعودی عرب کامیاب بنانے کے لیے ماحول کی سازگاری کی اپیل ان کے سیکرٹری کی طرف سے آئی ہے مگر ایسے لگ رہا ہے کہ ان کے اس مطالبے کے پیچھے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حمایت بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ دونوں مسلمان ملکوں کے درمیان اختلافات یمن سے ہوتے ہوئے بحرین اور لبنان تک پہنچتے ہیں، لیکن موجودہ کشیدگی میں شام کے بحران محوری سبب سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب، شام میں عوامی بغاوت کی تحریک کا حامی اور عوام کو مرضی کی قیادت کے انتخاب کی حمایت کرتا ہے جبکہ تہران نہ صرف صدر بشارالاسد کی غیر مشروط حمایت جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ ان کا اقتدار بچانے کے لیے ہر ممکن مدد بھی کر رہا ہے۔

سابق صدرکے علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے بھائی محمد ہاشمی نے خبر رساں ایجنسی "ایرنا" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ سابق صدر کا دورہ سعودہ عرب کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ماحول کو سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں محمد ہاشمی کا کہنا تھا کہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی صرف مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سعودی عرب نہیں جانا چاہتے۔ اگر ان کا دورہ کامیاب بنانا ہے تو کشیدگی کم اور ماحول کو سازگار بنانا ہو گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق اکیس اپریل کو تہران میں متعین سعودی سفیر عبدالرحمان بن غرمان نے سعودی وزیر خارجہ کی جانب سے علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا تھا اور انہیں ایک مرتبہ پھر سعودی عرب دورے کی دعوت دی تھی۔

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور موجودہ صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے درمیان بھی گہرے دوستانہ مراسم ہیں۔ دونوں ایرانی رہ نماؤں نے متعدد مواقع پر ایران اور سعودی عرب کے مابین اختلافات کم سے کم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔ گذشتہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران ہاشمی رفسنجانی کی حسن روحانی کو بھرپور حمایت حاصل رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس امرسے لگایا جا سکتا ہے کہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے کہنے پر اصلاح پسند صدارتی امیدوار محمد رضا عارف کو حسن روحانی کے حق میں دستبردار کرایا تھا۔ حسن روحانی کی موجودہ کابینہ میں اکثریت ایسے وزراء اور حکام کی ہے جو ہاشمی رفسنجانی کی حکومت میں بھی شامل رہے ہیں۔

سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے دورہ سعودی عرب کے لیے ایسے وقت میں زور دیا جا رہا ہے کہ ایک ہفتہ قبل سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعواد الفیصل نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کو دورہ ریاض کی دعوت دی تھی۔ ایران نے اس دعوت کا خیر مقدم کیا تھا۔