.

لیبی پارلیمنٹ طرابلس کے لکژری ہوٹل میں منتقل

فائرنگ کے واقعے کے بعد قانون ساز ایوان غیر محفوظ ہو گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی پارلیمنٹ پر دو دن پہلے مسلح شدت پسندوں کے حملے کے بعد ایوان کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے بجائے طرابلس کے ایک پنچ تارا ہوٹل میں منعقد ہوا۔

لیبی پارلیمنٹ کے ترجمان نے عمر حمیدان نے میڈیا کو بتایا اتوار کے روز پارلیمنٹ ہاؤس پر ہونے والے حملے کے بعد ایوان کا اجلاس ایک ہوٹل میں منعقد ہوا، جب تک پارلیمنٹ ہاؤس کی حفاظت کے لیے تمام انتظامات مکمل نہیں ہو جاتے اس وقت تک اجلاس ہوٹل ہی میں جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ لیبی پارلیمنٹ پر حملہ اور ایوان کا ایک ہوٹل میں اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب الیکشن کمیشن نے پچیس جون کو نئے پارلیمانی انتخابات کا بھی شیڈول جاری کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق طرابلس میں پارلیمنٹ ہاؤس پر ہونے والے حملے کے بعد دارالحکومت میں حالات قدرے پر سکون ہونا شروع ہو گئے تھے تاہم اب بھی شہر میں زندگی معمول پر نہیں آ سکی۔ رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے کی ذمہ داری میجر جنرل خلیفہ خفتر کے حامی ایک شدت پسند گروپ نے قبول کی تھی، لیکن خفتر گروپ اور اسلامی شدت پسندوں کے درمیان بدترین جھڑپ گذشتہ جمعرات کو بنغازی شہرمیں ہوئی میں دوطرفہ مسلح تصادم میں کم سے کم 70 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

طربلس میں حالات معمول پر آنے کے باوجود غیر ملکی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ مصراتۃ کے عسکری گروپوں کے لڑائی میں شامل پونے سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔

خیال رہے کہ سنہ 2011ء میں سابق مرد آہن کرنل معمر قذافی کے باغیوں کے ہاتھوں قتل کے بعد نئی وجود میں آنے والی کوئی بھی حکومت ملک میں جاری بدامنی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ ہر شہر میں کئی کئی عسکری گروپ ایک دوسرے کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ ان میں مصراتۃ شہر میں اخوان المسلمون کے حامیوں اور ان کے مخالفین کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ اخوان کے ایک مخالف گروپ نے گذشتہ اتوار کو پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ کر دیا تھا۔

پارلیمنٹ کے ترجمان عمر حمیدان نے کہا کہ اسپیکر نوری ابو سھمین نے مصراتۃ شہر میں موجود تمام سیکیورٹی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پارلیمنٹ ہاؤس کو ہر ممکن تحفظ فراہم کریں۔

ترجمان نے کہا کہ جنرل نیشنل کانگریس [پارلیمنٹ] نے منگل کے روز اجلاس طرابلس میں "ریڈیسن بلو" ہوٹل میں منعقد کیا۔ جب تک پارلیمنٹ ہاؤس کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا اجلاس اس ہوٹل میں ہو گا۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالات جلد ہی قابو میں آ جائیں گے اور ایوان کا اجلاس حسب معمول پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا۔

خیال رہے کہ حکومت کی تبدیلی اور اخوان المسلمون کے حامی سمجھے جانے والے نو منتخب وزیر اعظم احمد معیتیق کی حمایت اور مخالفت بھی پارلیمنٹ پر حملے کا اہم سبب سمجھی جاتی ہے۔ مصراتۃ کے عسکری گروپوں کی طرف سے پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے میں ملوث گروپ مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے والے احمد معیتیق کے سخت خلاف ہے اور ان کے بہ طور وزیر اعظم انتخاب کی سخت مخالفت کی ہے۔ ایوان کے اندر بھی احمد معیتیق کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔ گذشتہ پیر کو سبکدوش وزیر اعظم عبداللہ الثنی نے نئے وزیر اعظم کے معاملے پر اختلافات ختم کرنے کے لیے وزیر اعظم کا دوبارہ انتخاب عمل میں لانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔