.

آئی سی سی نے لیبیا میں سیف قذافی کا ٹرائل مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے لیبیا کے سابق مرد آہن معمر قذافی کے بڑے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے خلاف ان کے اپنے ملک میں ٹرائل کے لیے درخواست کو مسترد کردیا ہے۔

لیبیا کے پراسیکیوٹرز نے فوجداری عدالت سے سیف قذافی کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت مقدمے کی ملک ہی میں سماعت کی استدعا کی تھی لیکن عدالت کے صدر جج ایرکی کورولس نے چار وجوہ کی بنا پر ان کی یہ درخواست مسترد کردی ہے اور پری ٹرائل عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس نے سیف قذافی کو ہیگ کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

سیف الاسلام قذافی 2011ء میں اپنے والد معمرقذافی کی حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران تشدد کے واقعات ،جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے الزامات میں آئی سی سی کو مطلوب ہیں اور لیبیا کی حکومت بھی ان کے خلاف انہی الزامات کے تحت مقدمہ چلا رہی ہے۔

مقتول کرنل قذافی کے اکتالیس سالہ جانشین بیٹے کو 19 نومبر2011ء کو مغربی شہر الزنتان میں مسلح جنگجوؤں نے گرفتارکیا تھا۔اس کے بعد سے انھیں اسی شہر میں ایک خفیہ جیل میں رکھا جارہا ہے۔لیبیا انھیں ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت کے حوالے کرنے سے انکار کرچکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ملک ہی میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات میں مقدمہ چلایا جائے گا جبکہ آئی سی سی انھیں ہیگ بھیجنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

آئی سی سی نے جون 2011ء میں ان کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔سیف الاسلام قذافی کے خلاف ہیگ میں کب مقدمہ چلایا جائے گا،یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ اگر ان کے خلاف لیبیا میں مقدمہ چلایا جاتا ہے اور ان پرعاید کردہ الزامات عدالت میں ثابت ہوجاتے ہیں تو انھیں زیادہ سے زیادہ عمرقید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ لیبیا میں موت کی سزا نافذ نہیں ہے اور سنگین جرائم میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہی سنائی جاسکتی ہے۔