.

توہین رسالت کا مرتکب تیونسی معافی کے بعد دوبارہ جیل میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں اسلام کی توہین کے جرم میں دوسال قید کاٹنے والے نوجوان کو دوبارہ ایک اورمقدمے میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

جبوری مجری کو تیونس کی ایک عدالت نے اپریل میں ایک سرکاری عہدے دار کی توہین کے الزام میں قصور وار قرار دے کر آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی اور اب اسے اسی مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ شاتم رسول خود کو ملحد قراردیتا ہے اور اس کو 2012ء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے بنانے کے جرم میں ساڑھے سات قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن اس فروری میں صدر منصف مرزوقی نے اس کو معافی دے دی تھی جس کے دوہفتے کے بعد مارچ میں اس کو جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

رہائی کے چھے ہفتے کے بعد اس کو ایک عدالتی افسر کی توہین کے جرم میں دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔اس کے حامیوں پر مشتمل کمیٹی نے اس کی گرفتاری اور قید کو ''عدالتی حراسیت'' قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔

اس کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے:''اس سے واضح ہوگیا ہے کہ صدارتی معافی کو قبول نہیں کیا جارہا اور کسی بھی قیمت پر جبور کو جیل میں رکھا جارہا ہے تاکہ وہ اظہار رائے کی آزادی کا خمیازہ بھگتے اور اس کو مستقبل میں اس طرح کی کسی حرکت سے باز رکھا جاسکے''۔

اظہاررائے کی آزادی کے نام پر پیغمبر اسلام صلی اللہوسلم کے توہین آمیزخاکے بنانے کے والے اس تیونسی کا تعلق ملک کے جنوبی قصبے مہدیہ سے ہے۔اس نے جب یہ ناپاک جسارت کی تھی،تب وہ بے روزگار تھا لیکن اس سے پہلے وہ محکمہ ریلوے میں ملازم رہا تھا اور اس کے خلاف عاید کردہ بدعنوانیوں کے الزامات کی بھِی تحقیقات کی جارہی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کو تیونس میں 2011ء کے عرب بہاریہ انقلاب کے بعد ضمیر کی آزادی کا پہلا قیدی قراردیا تھا لیکن واضح رہے کہ ایمنسٹی اور اس ایسی دوسری تنظیمیں اسلام ،اسلامی شعائر اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کو کوئی جرم نہیں سمجھتی ہیں اور اس قابل نفرت فعل کو اظہار رائے کی آزادی قراردیتی ہیں۔