.

لیبیا: انقلابیوں نے جنرل حفتر کی کارروائیوں کی مذمت کردی

اٹارنی جنرل سے جرائم میں ملوث گروہوں کے نام شائع کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے ایک باغی گروپ نے سابق فوجی جنرل خلیفہ حفتر کو شکست خوردہ قرار دے کر ان کی مذمت کردی ہے اور ''حقیقی باغیوں '' سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوج سے منحرف ہوجائیں۔

لیبیا انقلابی آپریشنز روم نامی اس باغی گروپ کی جانب سے یہ بیان جنرل حفتر کے فوجی اتحادیوں کی تعداد میں اضافے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ملک کی ملٹری انٹیلی جنس اور طرابلس کی پولیس نے منگل کو مشرقی شہر بن غازی میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں سابق جنرل کی قیادت میں خودساختہ نیشنل آرمی کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

انقلابی آپریشنز روم نامی اس نئے گروپ نے بدھ کو جاری کردہ بیان میں ''لیبی فوج میں شامل ہونے والے حقیقی باغیوں پر زوردیا ہے کہ وہ فوری اور عارضی طور پر فوج کو خیرباد کہہ دیں اور اپنے کمانڈروں سے دہشت گردوں کے نام ظاہر کرنے کا مطالبہ کریں'' جو اس گروپ کے بہ قول ان سے لڑتے رہے ہیں اور جن پر قتل کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

بیان میں ملک کے اٹارنی جنرل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسلح گروپوں کے قتل وغارت میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے نتائج عام کریں۔ان میں اس گروپ کے بہ قول ایسے گروہوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔

انقلابی آپریشنز روم کا کہنا ہے کہ ''انھیں شکست خوردہ جنرل خلیفہ حفتر کی دلیرانہ کارروائیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اگر انھیں مجرموں کے خلاف ثبوت مہیا کردیے گئے تو وہ ان کا راستہ روکیں گے''۔

انھوں نے ''جنرل حفتر کی قیادت میں ملیشیا کی کارروائیوں کو فوجی بغاوت قراردیا ہے جس کا مقصد بالادستی حاصل کرنا ،آمریت کو بحال کرنا اور 17 فروری کے انقلاب کا خاتمہ کرنا ہے''۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ انقلابی ملک میں نئی خانہ جنگی اور باہمی خونریزی میں شریک نہیں ہوں گے اور ان کے بہ قول اس خانہ جنگی کا کوئی بھی فاتح نہیں ہوگا۔

قبل ازیں گذشتہ روز لیبیا کے جہادی گروپ انصارالشریعہ نے مشرقی شہر بن غازی میں اپنے ٹھکانوں کے دفاع کا عزم ظاہر کیا تھا۔اس تنظیم کو امریکا نے دہشت گرد قراردے کر اس پر پابندی عاید کررکھی ہے۔اس نے جنرل حفتر کی قیادت میں ملیشیا کے گذشتہ جمعہ کو تباہ کن حملے کو اسلام کے خلاف جنگ کا حصہ قراردیا ہے۔اس تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے عرب اتحادی ان کے خلاف یہ جنگ مسلط کررہے ہیں۔

خلیفہ حفتر کے وفادار جنگجوؤں نے اتوار کو دارالحکومت طرابلس میں پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا اور گذشتہ جمعہ کو بن غازی میں انصارالشریعہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔ان کے جنگجوؤں نے ایک ائیربیس اور ایک نجی ٹی وی چینل کی عمارت پر راکٹوں سے حملہ کردیا تھا مگر انصارالشریعہ کے جنگجوؤں نے بن غازی پر جنرل حفتر کی نیشنل آرمی کے حملے کو پسپا کردیا تھا اور ان دونوں گروہوں کے درمیان لڑائی میں اناسی افراد مارے گئے تھے۔