.

بحران سے نکلنے کیلیے عبوری حکومت قائم کی جائے: جنرل حفتر

لیبیا کے سرکش جرنیل نے سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے سرکش جرنیل خلیفہ حفتر نے ملک کی سپریم جوڈیشل کونسل سے ملک میں بحرانی صورت حال سے نمٹنے کیلیے ایک ایسی عبوری حکومت بنانے کو کہا ہے جو نئی پارلیمنٹ کے انتخاب تک کام کرے۔

جنرل خلیفہ حفتر جنہوں نے اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے کا موقف ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ '' العربیہ'' سے نشر کیے گئے اپنے بیان میں جنرل حفتر نے کہا '' اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف اتحاد نے ملک سے دہشت گردی کے صفائے کا تہیہ کر رکھا ہے۔''

جرل حفتر نے کہا'' لیبیا میں ریاستی مدد سے دہشت گردی جاری ہے ، لیبیا کی دولت چوری کی جا رہی ہے اور ملک کی شکل ہی تبدیل کر دی گئی ہے۔''

لیبیا کے ایک معروف سیاسی تجزیہ کار فراس بوسلوم نے جاری صورت حال کے بارے میں'' العربیہ'' سے کہا '' جنرل حفتر یہ باتیں کر کے ان اندیشوں کو زائل کرنے کی کوشش کی جو ان ک وجہ سے پیدا ہوئے ہیں کہ انہوں نے ایک فوجی بغاوت پیدا کر رکھی ہے۔''

فراس بوسلوم جنرل حفتر کا بیان یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ اقتدار پر قبضے کیلیے نہیں ہے بلکہ ایک سویلین حکومت کے قیام کا خواہش مند ہے تاکہ بحران پر قابو پایا جائے، اس ناطے یہ بیان بڑا منظم اور واضح ہے۔''

دریں اثناء یہ بھی اطلاع آئی ہے کہ لیبیا کے وزیر ثقافت نے جنرل حفتر اور ان کے اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے اس سے پہلے پولیس بھی سرکش جرنیل کے ساتھ مل چکی ہے۔

لیبیا کے انتخابی عمل کے نگران ادارے الیکٹورل کمیشن نے اس پیدا شدہ صورتحال میں اعلان کیا ہے کہ نئے انتخابات 25 جون کو ہوں گے تاکہ متنازعہ پارلیمنٹ کی جگہ متفقہ پارلیمنٹ لے سکے۔

امریکی حکومت کے ایک ذمہ دار نے نئے انتخابات کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ نیا انتخاب ایک مستحکم حکومت کی راہ ہموار کرے گا۔

دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی کا کہنا تھا '' ہم لیبیا کی طرف سے الیکشن کے فوری انعقاد کی حمایت اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ہم لیبیا کی تمام پارٹیوں کے درمیان مکالمے کے بھی حامی ہیں تاکہ مستقبل میں تشدد کا راستہ روکا جا سکے۔''