.

روس کا شام سے متعلق فرانسیسی قرارداد ویٹو کرنے پر اصرار

قرارداد جمعرات کے روز سیکیورٹی کونسل میں پیش کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج جمعرات کے روز شام کے بارے میں قرارداد پر ڈرامائی ووٹنگ کا امکان ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے یہ سفارش سامنے لائی جائے گی شام میں مبینہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی فوجداری عدالت سے تحقیقات کرائی جائیں۔ تاہم روس نے اس قرار داد کے ذریعے انصاف حاصل کرنے کی کوشش کو ویٹو کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اقوام متحدہ کیلیے روس کے سفیر وٹالی چرکن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک فرانس کے تیار کردہ اس مسودہ قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔ ''روسی سفیر کا کہنا تھا ''یہ محض شہرت حاصل کرنے کی حرکت ہے ، اس قرارداد سے مسئلے کے سیاسی حل کیلیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ ''

واضح رہے چوتھے سال کو پہنچی شامی خانہ جنگی میں اب تک تقریبا ایک لاکھ ساٹھ ہزار لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کیلیے فرانس کے سفیر نے اس حوالے سے کہا ''یہ قرارداد کون سے سیاسی عمل کو متاثر کرے گی ؟ شامی تنازعے کو طے کرنے کیلیے سیاسی عمل تو سرے سے ہو ہی نہیں رہا ہے۔ ''

فرانسیسی سفیر نے مزید کہا '' روس کو بتانا چاہیے کہ وہ ایسی قرار داد کو کیوں ویٹو کرنا چاہتا ہے، جس میں بشار حکومت، اس کی حامی ملیشیاوں اور غیر ریاستی مسلح گروپوں یعنی تمام فریقوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر ہونے والی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی یکساں مذمت کی گئی ہے۔''

شام کے معاملے پر سلامتی کونسل میں گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ روس چین اس مسئلے پر ایک طرف ہیں جبکہ امریکا اور اس اتحادی مغربی ملک دوسری جانب کھڑے ہیں۔ اس معاملے پر روس امکانی طور پر چوتھی مرتبہ ویٹو کا حق استعمال کرسکتا ہے۔ شام کی بشار رجیم کو چین کی بھی حمایت حاصل رہی ہے۔ جبکہ امریکا اور اس کے مغربی اتحادی شامی باغیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

ایک اطلاع کے مطابق اس قرار داد پر اقوام متحدہ کے 50 ارکان نے دستخط کیے ہیں۔ تاکہ شام میں انسانی حقوق کے خلاف جاری کارروائیوں کو روکنے کیلیے موثر پیغام دیا جا سکے۔

اس سے پہلے سلامتی کونسل دارفور اور لیبیا کے معاملات بین الاقوامی فوجداری عدالت کو بھیج چکی ہے ۔ لیکن ان موقعوں پر اتنی بڑی تعداد میں رکن ممالک کے دستخط نہیں ہوئے تھے جتنی بڑی تعداد میں اس قرار داد پر رکن ممالک نے دستخط کیے ہیں۔ اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشار الجعفری نے شامی باغیوں کی مدد کرنے پر فرانس کی مذمت کی ہے۔