.

ٹویٹر انتظامیہ اور انقرہ کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات

'مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ترک عدالتوں کو جلد جواب دے گی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُرک حکومتی ذرائع کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' کی انتظامیہ عدالتی احکامات پرعمل کرتے ہوئے جلد اپنے مثبت رد عمل کا اظہار کرے گی اور ویب سائٹ پرموجود قابل اعتراض مواد کو ہٹا دیا جائے گا، جس کے بعد ترکی میں ٹویٹر پر پابندیاں ختم کردی جائیں گی اور شہریوں کو براہ راست ٹویٹر تک رسائی فراہم کر دی جائے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے"رائیٹرز" کے مطابق آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں 'ٹویٹر' انتظامیہ اور تُرک حکام کے درمیان بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات میں مارچ میں ترک حکومت اور ٹویٹر انتظامیہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کرنے کے طریقہ کار پرغور کیا گیا۔

خیال رہے کہ اسی سال مارچ میں شہ سرخیوں کا موضوع بننے والی ترک حکومتی کرپشن کے بعد ٹویٹر پردو ہفتے تک پابندی لگائی گئی تھی۔ ٹویٹر پر پابندی کی وجہ سے انقرہ کو عالمی برادری کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ترک عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ٹویٹر" جلد ہی ترکی میں صارفین کے لئے اپنی سروسز بحال کر دے گا۔ یہ ہم سب کے لیے ایک مثبت قدم ہے جس کے بعد ہم براہ راست اور کم سے کم وقت میں ٹویٹر کے خلاف شکایات کا ازالہ کرسکیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ترک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہرمعاملے میں عدالتوں کی مداخلت ضروری نہیں ہوتی۔ ان کا اشارہ "ٹویٹر" پر پابندیوں کے بعد ترک عدلتوں کی جانب سے سامنے آنے والے فیصلوں کی جانب تھا جن میں ٹویٹر پر پابندی اٹھانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلن مذاکرات کامیاب رہے ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان مذاکرات میں فریقین نے کس نوعیت کے نکات پراتفاق کیا ہے۔

یاد رہے کہ ترکی میں رواں سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے کرپشن کے خوفناک اسکینڈل سامنے آئے تھے۔ یو ٹیوب اور ٹویٹر پر ایردوآن کے سیاسی مخالفین نے حکومتی عہدیداروں کی آڈیو ٹیپس بھی اپ لوڈ کی تھیں جن میں وزیر اعظم طیب ایردوآن کے مقربین کے کرپشن میں ملوث ہونے کے دعوؤں ثبوت فراہم کیے گیے تھے۔

مبینہ حکومتی کرپشن سے متعلق آڈیو ٹیپس سامنے آنے کے بعد وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے ٹویٹر اور یو ٹیوب پرپابندی لگا دی تھی تاہم اپریل کے اوائل میں ترک عدالتوں نے سوشل میڈیا پرعائد پابندیاں فوری اٹھانے کے احکامات صادر کیے تھے۔

ترک حکومت اور ٹویٹر کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ کولن کرویل نے گذشتہ مہینے بھی مذاکرات کیے تھے جو بے نتیجہ رہے۔ ترک حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ فریقین میں حالیہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ حکومت ٹویٹر کو ترک سر زمین پراپنے دفتر دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟