.

چین، روس نے شام سے متعلق قرارداد ویٹو کردی

قرارداد میں شام کا معاملہ آئی سی سی کو بھیجنے کی تجویز پیش کی گئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین اور روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں جنگی جرائم کا معاملہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو بھیجنے سے متعلق قرارداد کو ویٹو کردیا ہے۔

سلامتی کونسل میں قرارداد فرانس نے پیش کی تھی اور اس میں شامی حکومت، حکومت نواز ملیشیاؤں کی جانب سے انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی تھی۔ان کے علاوہ غیر ریاستی مسلح گروپوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی گَئی تھی اور شامی تنازعے کے کسی ایک فریق کو ہدف بنائے بغیر شام میں جنگی جرائم کا معاملہ عالمی فوجداری عدالت کو بھیجنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

سلامتی کونسل میں پیش کردہ اس قرارداد پر اقوام متحدہ کے ارکان پچاس ممالک نے بھی دستخط کیے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک مضبوط سیاسی پیغام دینا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین ترین جرائم کسی تعزیز کے بغیر ناقابل قبول ہیں۔

یاد رہے کہ شام نے عالمی فوجداری عدالت کے قیام سے متعلق روم معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے۔اس لیے اس کے خلاف جنگی جرائم کے معاملے کو سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے ہی بھیجا جاسکتا ہے۔کونسل قبل ازیں دارفور اور لیبیا میں جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے ذمے داروں کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے آئی سی سی کو کیس بھیج چکی ہے لیکن ان تنازعات سے متعلق قراردادوں پر عالمی ادارے کے اتنی زیادہ تعداد میں ممالک نے دستخط نہیں کیے تھے۔

مذکورہ قرارداد کے محرکین اور اس کے مخالفین اپنی اپنی حمایت کے لیے کوشاں رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں متعین شام کے سفیربشارالجعفری نے گذشتہ منگل کو رکن ممالک کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان پر زوردیا تھا کہ وہ اس کی حمایت نہ کریں۔انھوں نے مجوزہ قرارداد کو متعصبانہ قراردیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے ذریعے شامی تنازعے کے پُرامن حل کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ روس اور چین شام میں گذشتہ سوا تین سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران قبل ازیں تین مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ قراردادوں کو ویٹو کرچکے ہیں اور اس طرح وہ شامی صدر بشارالاسد کو تحفظ مہیا کرتے چلے آرہے ہیں جس کی وجہ سے امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک اور ان کے خلیجی اتحادی شام کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی یا مداخلت میں ناکام رہے ہیں۔

اس سے پہلے مغربی ممالک کی جانب سے فروری میں سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد میں شامی حکومت اور مسلح گروپوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کی مذمت کی گئی تھی اور شامی فورسز سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ شہروں اور قصبوں پر فضائی بمباری اور بلاامتیاز بموں ،راکٹوں اور دوسرے اسلحے کے استعمال کا سلسلہ بند کردیں لیکن روس نے اس کو ویٹو کردیا تھا۔