.

ایران: گرفتار''ہیپی'' 6 نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی

نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے رقص کرتے ہوئے یوٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں رقص کرتے ہوئے اپنی ویڈیو فلمانے اور اس کو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے والے چھے نوجوانوں کو ضمانت پر جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

ان چھے نوجوانون کا قصور محض اتنا تھا کہ انھوں نے مشہور پاپ گانا ''ہیپی'' گایا تھا اور اس پرسرعام رقص کیا تھا۔ان کی عمریں پچیس سال سے بھی کم بتائی گئی ہیں۔ان میں دوشیزائیں بھی شامل تھیں جنھوں نے لباس کے ضابطے کی خلاف ورزی کی تھی اور حجاب نہیں اوڑھا ہوا تھا۔

انھیں ویڈیو شئیرنگ کی ویب سائٹ یوٹیوب پر اپنے رقص کی ویڈیو پوسٹ کرنے کے الزام میں گذشتہ اختتام ہفتہ پر ایسے وقت میں گرفتار کیا گیا تھا جب صدر حسن روحانی ایرانیوں پر زوردے رہے تھے کہ انھیں انٹرنیٹ کو مغرب کا آلہ کار قراردے کر مسترد نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کو استعمال کرنا چاہیے۔

انھوں نے اپنی یہ ویڈیو اپریل میں یو ٹیوب پر اپ لوڈ کی تھی اور اس کو ان کی گرفتاری تک ایک لاکھ پینسٹھ ہزار سے زیادہ افراد دیکھ چکے تھے۔انھیں منگل کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر یہ ویڈیو بنانے پر معافی مانگتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔سرکاری ٹیلی ویژن پر تہران کے پولیس سربراہ حسین ساجدی بھی نمودار ہوئے تھے جو تمام نوجوان ایرانیوں کو یہ بھاشن دے رہے تھے کہ وہ کبھی اس طرح کی ویڈیوز نہ بنائیں۔

واضح رہے کہ امریکی گلوکار اور گیت نگار فیرل ولیمز نے اول اول ''ہیپی'' ویڈیو بنائی تھی اور اس کے بعد انھوں نے دوسرے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ بھی ایسی ہی ویڈیوز بنائیں اور ان کو آن لائن پوسٹ کردیں۔فیرل نے اپنے فیس بُک صفحے پر ایرانی نوجوانوں کی گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایرانی نژاد امریکیوں کی کونسل نے بھی ان کی گرفتاری کی مذمت کی تھی۔

خود اعتدال پسند ایرانی صدر حسن روحانی نے ان کی گرفتاری پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ ''خوشی ہمارے عوام کا حق ہے،ہمیں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کردار کے معاملے پر زیادہ سختی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے''۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ ان ایرانیوں پر گرفتاری کے بعد کیا فرد الزام عاید کی گئی تھی۔تاہم غیرملکی تارکین وطن ایرانی صحافیوں کی نیوزسروس کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کے خاندانوں کو تین تین کروڑ تمن (قریباً دس ہزار ڈالرز) کے برابر ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے اور انھیں بعد میں دوبارہ عدالت میں طلب کیا جائَے گا۔اس نیوز سروس کے مطابق ان نوجوانوں پر مخرب الاخلاق کردار کا مظاہرہ کرنے کے الزام میں فرد جرم لگائی جاسکتی ہے۔