.

لیبیا: دارالحکومت طرابلس میں اسلامی ملیشیا تعینات

جنرل حفتر کے جنگجوؤں کے پارلیمان پر حملے کو روکنے کے لیے اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں امن وامان کی صورت حال روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہے اور اسلامی ملیشیاؤں اور سابق جنرل خلیفہ حفتر کے وفادار جنگجوؤں کے درمیان ٹھن گئی ہے۔جمعرات کو جنرل حفتر کے وفادار جنگجوؤں کے پارلیمان پر ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے اسلامی ملیشیاؤں کو شہر میں تعینات کردیا گیا ہے۔

طرابلس سے العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ لیبیا کی سنٹرل شیلڈ ملیشیا کو ہوائی اڈے سے شہر کی جانب آنے والی شاہراہ پر تعینات کردیا گیا ہے۔یہ ملیشیا لیبیا کے مغربی شہر مصراتہ سے تعلق رکھتی ہے اور چیف آف اسٹاف کے ماتحت ہے جو براہ راست پارلیمان کو رپورٹ کرنے کے پابند ہیں۔

دوسری جانب لیبی حکومت نے ایک بیان میں تمام ملیشیاؤں پر زوردیا ہے کہ وہ طرابلس سے نکل جائیں اور سیاست سے دور رہیں۔جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں فورسز کے گذشتہ جمعہ کو دوسرے بڑے شہر بن غازی اور طرابلس میں حملوں کے بعد بیسیوں افراد مارے جاچکے ہیں۔

پہلے تو انھوں نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ وہ اسلامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں اور ان کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن اب انھوں نے ایک نیا مطالبہ یہ داغا ہے کہ حکومت تمام اختیارات ملک کے اعلیٰ ججوں پر مشتمل کونسل کو سونپ دے اور ایک صدارتی کونسل قائم کی جائے جو پارلیمان کو اپنے اختیار میں لے لے اور نئے سرے سے پارلیمانی انتخابات منعقد کرائے جائیں۔

انھوں نے العربیہ سے نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت اپنا قانونی جواز کھو چکی ہے اور سابق صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد بروئے کار آنے والے انتہا پسند جنگجوؤں کے خاتمے میں ناکام رہی ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا کی ملٹری انٹیلی جنس اور طرابلس کی پولیس نے کو مشرقی شہر بن غازی میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں سابق جنرل حفتر کی قیادت میں خودساختہ نیشنل آرمی کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

لیکن انقلابی آپریشنز روم نامی ایک گروپ نے ان کی مخالفت کی ہے اور لیبی فوج میں شامل حقیقی باغیوں پر زوردیا ہے کہ وہ فوری اور عارضی طور پر فوج کو خیرباد کہہ دیں اور اپنے کمانڈروں سے دہشت گردوں کے نام ظاہر کرنے کا مطالبہ کریں'' جو اس گروپ کے بہ قول ان سے لڑتے رہے ہیں اور جن پر قتل کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

قبل ازیں منگل کو لیبیا کے جہادی گروپ انصارالشریعہ نے مشرقی شہر بن غازی میں اپنے ٹھکانوں کے دفاع کا عزم ظاہر کیا تھا۔اس تنظیم کو امریکا نے دہشت گرد قراردے کر اس پر پابندی عاید کررکھی ہے۔اس نے جنرل حفتر کی قیادت میں ملیشیا کے گذشتہ جمعہ کو تباہ کن حملے کو اسلام کے خلاف جنگ کا حصہ قراردیا ہے۔اس تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے عرب اتحادی ان کے خلاف یہ جنگ مسلط کررہے ہیں۔