لیبیا خانہ جنگی کے دہانے پر ،امریکا کو تشویش

بن غازی میں راکٹ حملے میں ایک ہی خاندان کے 21 افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لیبیا میں ایک سابق باغی جنرل کے وفادار جنگجوؤں اور پارلیمان کی حمایت کرنے والے اسلامی جنگجوؤں کے درمیان مسلح کشیدگی جاری ہے جس کے بعد شمالی افریقہ کا یہ ملک ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا ہے جبکہ امریکا نے اس ملک میں امن وامان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

لیبی دارالحکومت طرابلس میں قائم امریکی سفارت خانے اور یورپی سفارتی مشن نے لیبیا میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکا ،یورپی یونین ،فرانس ،جرمنی ،اٹلی اور برطانیہ نے جمعہ کو امریکی سفارت خانے کی ویب سائٹ پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے لیبیا میں جاری تنازعے اور مسلح محاذ آرائی کے سیاسی حل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

بیان میں تمام فریقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو سیاسی طریقے سے طے کریں اور طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔اس میں لیبیا پر زوردیا گیا ہے کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو،پارلیمانی انتخابات منعقد کرائے۔

امریکی سفارت خانے کی جانب سے یہ بیان سابق جنرل خلیفہ حفتر کے وفادار جنگجوؤں کے پارلیمان پر ممکنہ نئے حملے کو روکنے کے لیے اسلامی ملیشیا کی شہر میں تعیناتی کے ایک روز بعد جاری کیا گیا ہے۔حفتر کے جنگجوؤں نے گذشتہ اتوار کو پارلیمان پر حملہ کردیا تھا جس کے بعد سے شہر میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔

طرابلس سے العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق لیبیا کی سنٹرل شیلڈ ملیشیا کو ہوائی اڈے سے شہر کی جانب آنے والی شاہراہ پر تعینات کیا گیا ہے۔یہ ملیشیا لیبیا کے مغربی شہر مصراتہ سے تعلق رکھتی ہے اور چیف آف اسٹاف کے ماتحت ہے جو براہ راست پارلیمان کو جواب دہ ہیں۔

دوسری جانب لیبی حکومت نے ایک بیان میں تمام ملیشیاؤں پر زوردیا ہے کہ وہ طرابلس سے نکل جائیں اور سیاست سے دور رہیں۔ وزیرثقافت حبیب الامین کے بہ قول حکومت نے ''سنٹرل شیلڈ'' نامی ملیشیا کی دارالحکومت میں آمد کا نوٹس لیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے تحفظ کے لیے اس کی تعیناتی سے شہری زندگی درہم برہم ہوجائے گی اور شہریوں کی سکیورٹی خطرات سے دوچار ہوجائے گی۔انھوں نے اس ملیشیا سے حکومت کی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

امریکا نواز جنرل خلیفہ نے پہلے یہ بیان جاری کیا تھا کہ وہ اسلامی جنگجوؤں کا خاتمے چاہتے ہیں اور ان کے ماتحت فورس نے گذشتہ جمعہ کو بن غازی میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم انصارالشریعہ کے خلاف کارروائی شروع کی تھی لیکن گذشتہ روز انھوں نے ایک نیا مطالبہ یہ داغا ہے کہ حکومت تمام اختیارات ملک کے اعلیٰ ججوں پر مشتمل کونسل کو سونپ دے اور ایک صدارتی کونسل قائم کی جائے جو پارلیمان کو اپنے اختیار میں لے لے اور نئے سرے سے پارلیمانی انتخابات منعقد کرائے جائیں۔

ان کا کہناہے کہ حکومت اپنا قانونی جواز کھو چکی ہے اور سابق صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد بروئے کار آنے والے انتہا پسند جنگجوؤں کے خاتمے میں ناکام رہی ہے۔واضح رہے کہ لیبیا کی ملٹری انٹیلی جنس اور طرابلس کی پولیس نے مشرقی شہر بن غازی میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں جنرل حفتر کی قیادت میں خودساختہ نیشنل آرمی کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

درایں اثناء لیبیا کے بن غازی میں ایک راکٹ حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے اکیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ راکٹ جنرل خلیفہ حفتر کے جنگجوؤں کے زیر استعمال ایک فوجی اڈے کے نزدیک واقع اس خاندان کے مکان میں آکر گرا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں