کمرہ نماز کی تالا بندی پر فرانسیسی پروفیسر کی دھنائی

فرانسیسی وزیر تعلیم کی جانب سے واقعے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نوح میں واقع سینٹ ڈینز یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے ڈائریکٹر کو جامعہ میں جائے نماز کی تالا بندی کی کوشش مہنگی پڑ گئی اور طلباء نے اس کی پھینٹی لگا دی۔ اطلاعات کے مطابق ڈائریکٹر ٹکنالوجی انسٹیٹیوٹ صموئیل مایول کو اندازہ نہیں تھا کہ مسلمان طلباء کے زیر استعمال کمرہ نماز کو بند کیے جانے کا انجام اتنا خوفناک ہو سکتا ہے ورنہ وہ ایسا کرنے سے قبل کئی بار سوچتا۔ تاہم اس نے مسلمان طلبا کو کمرے میں نماز سے روک کر خود ہی اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صموئیل مایول اور سینٹ ڈینز یونیورسٹی کے مسلمان طلباء کے درمیان تناؤ پچھلے کئی ماہ سے جاری ہے۔ گو کہ یونیورسٹی کے جس کمرے پر تنازعہ پیدا ہوا وہ میٹنگ ہال اور تقریبات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن رواں سال کے آغاز میں مسلمان طلباء نے اس میں نماز کی ادائی شروع کر دی جسے غیر علانیہ طور پر مسجد کا درجہ حاصل ہو گیا تھا،تاہم اس کے باوجود جامعہ کی انتظامیہ نے ہال کو مسجد کے طور پر استعمال کرنے کی باضابطہ طور پر اجازت نہیں دی تھی۔

یونیورسٹی سے ملحقہ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر صموئیل نے طلباء کو وہاں پر نماز کی ادائی سے متعدد مرتبہ منع کیا تو وہ اس پر سخت برہم ہوئے اور نوبت صموئیل کو جان سے مار دینے کی دھمکیوں تک جا پہنچی۔ یہ دھمکیاں اس وقت عملی شکل میں سامنے آئیں جب صموئیل مایول نے نماز کے لیے استعمال کیے جانے والے کمرے کو تالہ لگا دیا۔ صموئیل کے اقدام کے رد عمل میں گذشتہ بدھ کو رات کے وقت ایک تقریب کے دوران نامعلوم افراد نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کی خوب پٹائی کی۔

صموئیل کی دھنائی کی خبر فرانسیسی میڈیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور کچھ ہی دیر بعد فرانسیسی وزیر تعلیم بینوا آمون کا ایک مذمتی بیان بھی سامنے آ گیا۔ انہوں نے صموئیل پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور حملہ آوروں کو تلاش کرکے ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی اور صموئیل کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

آمون کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے عہدیدار اور ممتاز دانش ور پر حملہ مجرمانہ کارروائی ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ صموئیل کو رواں سال کے دوران کم سے کم 10 دھمکی آمیز پیغامات موصول ہو چکے ہیں۔ جن میں انہیں جان سے مارنے اور ان کے عزیز واقارب کو حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔

پیرس پولیس کی جانب سے 42 سالہ مجروح پروفیسر صموئیل مایول کی کوئی تازہ تصاویر جاری نہیں کی گئی تاہم فرانسیسی ابلاغی، سیاسی اور تعلیمی حلقوں میں اس پر حملے کی سخت مذمت کی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صموئیل مایول کے خلاف دھمکی آمیز پیغامات اس وقت آنے شروع ہوئے تھے جب ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے شمالی افریقا کے مسلمان ملک سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار کو محض اس الزام میں برطرف کیا گیا تھا کہ وہ من پسند افراد کو بھرتی کرتا اور انہیں مفت میں تنخواہیں جاری کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں