سعودی پابندیوں کا خطرہ، اعلیٰ ڈچ ایلچی الریاض آئے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نیدرلینڈز نے اپنے ایک انتہا پسند سیاست دان کے اسلام مخالف اسٹکروں کے ردعمل میں ڈچ کمپنیوں پر ممکنہ سعودی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک اعلیٰ سفارتی عہدے دار کو الریاض بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت نے مملکت میں کاروبار کرنے والی ڈچ کمپنیوں پر پابندیوں کے علاوہ ڈچ شہریوں کے لیے ویزوں کی تعداد میں کمی اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تبادلے کے کاروباری دوروں کو بھی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈچ ادارہ شماریات کے مطابق نیدرلینڈز کی سعودی عرب کے لیے سالانہ برآمدات کا حجم دو ارب یورو (دو ارب ستر کروڑ ڈالرز) ہے۔اس طرح یہ یورپی ملک اپنے ایک اسلام مخالف انتہا پسند سیاست دان کی وجہ سے خلیج کے امیر ترین ملک سے کاروباری شراکت داری سے محروم ہوجائے گا۔

نیدر لینڈز کی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت فریڈم پارٹی کے رہ نما گیرٹ وائیلڈر نے دسمبر میں اپنی مہم کے تحت اسلام کی توہین پر مبنی اسٹکر شائع کر کے تقسیم کیے تھے اور یہ اسٹکر سعودی عرب کے کلمے والے قومی پرچم کے دو رنگوں سبز اور سفید میں تیار کیے گئے تھے۔سعودی عرب نے اسی کے ردعمل میں ڈچ کمپنیوں پر پابند عاید کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیکن نیدر لینڈز کے وزیرخارجہ فرانس ٹمرمینس نے ڈچ نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک کو ایک رکن پارلیمان کے نابالغانہ رویے کی وجہ سے ذمے دار قرار نہیں دیا جاسکتا اور ہم ان صاحب کی حرکت کے ردعمل میں نیدرلینڈز کے لیے مضمرات کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کریں گے۔

ڈچ وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزارت کے سیاسی امور کے ڈائریکٹر جنرل کو معاملات کے سدھار کے لیے سعودی عرب بھیجا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ سعودی مملکت کی جانب سے پابندیوں کے اشارے دیے گئے ہیں۔اس پر ہمیں تشویش لاحق ہے،اسی لیے ہم نے اپنا ایلچی بات چیت کی غرض سے الریاض بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی عرب کے معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار سلمان الدوسری نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیدرلینڈز کے لوگوں کا ایک وسیع گروپ وائیلڈر ایسے اسلام مخالف خیالات کا حامل ہے اور وہ اس کے انتہا پسندانہ نظریات کا مؤید ہے۔اس پر مسلمانوں کو تشویش لاحق ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے ڈچ کمپنیوں اور ڈچ شہریوں پر پابندیوں کا جو مسودہ تیار کیا ہے،اس پر عمل درآمد کیا جائے گا کیونکہ ڈچ حکومت نے اس معاملے پر قابو پانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔اب ہم پانچ چھے ماہ کی بات کررہے ہیں اور اس دوران ڈچ حکومت کچھ بھی نہیں کر پائی ہے۔

واضح رہے کہ گیرٹ وائیلڈر ہی نے ''فتنہ'' کے نام سے اسلام مخالف فلم بنائی تھی اور اب سعودی پرچم کی طرح کے اسٹکرز تیار کرائے ہیں جن پر اسلام مخالف نعرے اور عبارتیں درج ہیں۔ان میں سے ایک میں کہا گیا ہے کہ اسلام (نعوذ باللہ) جھوٹ ہے۔

نیدرلینڈز سعودی عرب کے ساتھ تیل اور گیس کی تجارت کے علاوہ اس کو زراعت ،مشینری ،کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل شعبوں میں مصنوعات اور ٹیکنالوجی برآمد کرتا ہے۔سعودی عرب کی جانب سے ممکنہ پابندیوں پر مسٹر وائیلڈر نے ہفتے کے روز اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ''نیدرلینڈز کو تو اس ملک کا بہت پہلے بائیکاٹ کردینا چاہیے تھا''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں